اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ2026-27تنخواہ دار طبقے، عوام اور مزدور کا بجٹ ہے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا ترجیح تھی،حکومت نے بجٹ میں برآمدات اور ٹیکس نظام کی بہتری پر خصوصی توجہ دی ہے تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے، سب سے پہلے ملکی سرمایہ کاروں کو قدم بڑھانا ہوگا، بجٹ پرو گروتھ اور بزنس ہے،خطے میں جاری جنگ کی وجہ سے تیل قیمت میں کافی اضافہ ہوا ، ہماری قیادت خطے میں امن کے لئے اہم کردار ادا کررہی ہے، آئل کی سپلائی اور قیمت سے متعلق اقدامات لیے گئے ہیں، صوبوں نے بھی دفاعی بجٹ کے لیے تعاون کیا ہے۔ ان خیالات کااظہار وزیر خزانہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ۔
وزیر خزانہ نے عوام کو امید دلاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال میں نے کہا تھا ہماری معیشت درست سمت میں جا رہی ہے اور اب بجٹ میں ہم نے معیشت کے جس سفر کی بات کی تھی، اس میں واضح بہتری آ رہی ہے، ہم معاشی استحکام سے اب ترقی کی جانب بڑھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی کی کوئی ایک آخری منزل نہیں ہوتی، لیکن ہم ترقی کی طرف چل پڑے ہیں اور جتنا ممکن ہو سکا ہم نے سرکاری فنڈز کی گنجائش کو عوامی فائدے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس سال معاشی لحاظ سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، معیشت درست سمت میں گامزن ہے، ہم معاشی استحکام سے گروتھ کی جانب بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ عوامی ریلیف کےلئے 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی فراہم کی گئی ہے، آئی ٹی برآمدات بڑھ کر 4 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچیں گی، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی، وزیراعظم سمیت سب نے ا تفاق کیا کہ سپرٹیکس ختم ہونا چاہئے، کسانوں کیلئے ذرخیزی سکیم متعارف کرائی گئی، جبکہ نوجوانوں کیلئے وزیراعظم یوتھ لان مختص کیا گیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ نوجوانوں کو کاروبار کے لیے دو سو باسٹھ ارب روپے کے قرضے دیے جا رہے ہیں ۔
زرعی مشینری اور آلات پر کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کو زیرو کردیا گیا ہے، جبکہ زراعت کے شعبے میں آسانیاں فراہم کی گئی ہیں، زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی کا حجم 20ارب سے تجاوز کر گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی میں تعمیرات کے شعبے کا اہم کردار ہے، ہم معاشی ترقی کے سفر پر چل پڑے ہیں، محدود وسائل کے باوجود حکومت نے عوام دوست بجٹ پیش کیا، مشرق وسطی جنگ میں پتہ چلا کہ اپنی شپنگ فلیٹ ہونا کتنا اہم ہے۔محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ایکسپورٹ انڈسٹری کی ڈیمانڈز سامنے رکھ کر اقدامات کیے ہیں، تنخواہ پر5 فیصد ٹیکس کوایک فیصد کیا،15 فیصد کو 13فیصد کیا، بڑی تنخواہوں اور سرچارج اقدامات پراچھا فیڈبیک ملا ہے، غلط معلومات جن ذرائع سے موصول ہوتی ہیں ان کا احتساب خود کریں۔وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ بجٹ کابینہ میں پیش کیا گیا توکہا گیا سب ایکسپورٹرز کیلئے سپرٹیکس ختم کیا جائے، آئی ٹی انڈسٹری اورفری لانسرز کیلئے ایف ٹی آر برقرار رکھا ہے، انرجی انفراسٹرکچر پر دباﺅ ہے اور کچھ آئندہ مالی سال بھی رہے گا۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ خطے میں جاری جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمت میں کافی اضافہ ہوا ۔ پاکستانی قیادت امن قائم کرنے کے لیے ہمت نہیں ہار رہی ۔ ہماری قیادت خطے میں امن کے لیے اہم کردار ادا کررہی ہے۔ آئل کی سپلائی اور قیمت متعلق اقدامات لیے گئے ہیں۔
صوبوں نے بھی دفاعی بجٹ کے لیے تعاون کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ صوبوں کی جانب سے مرکز کی امداد پر شکرگزار ہوں، یہ سہولت آئندہ 3 مالی سال کیلئے جاری رہے گی، معاشی استحکام کی کوئی منزل نہیں ہوتی، ترسیلات زر، پالیسیوں کا تسلسل ہوگا، تو لوکل انویسٹر پھر بیرون ملک کا سرمایہ کار آئے گا۔وزیرخزانہ نے کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد آہستہ آہستہ بحال ہوتا ہے، سب سے پہلے ملکی سرمایہ کاروں کو قدم بڑھانا ہوگا، بجٹ پرو گروتھ اور بزنس ہے۔ زراعت کے شعبے کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کے قرضے پندرہ فیصد اضافے کے ساتھ بیس کھرب روپے سے بڑھ گئے ہیں اور اس بجٹ میں زراعت کے لیے ایک سو پچیس ارب روپے الگ رکھے گئے ہیں جبکہ کاشتکاروں کی سہولت کے لیے زراعت سے متعلق آلات پر تمام ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کو ختم کر کے صفر کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دکانداروں کے لیے ریٹیلر اسکیم بھی بجٹ میں پیش کی گئی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اپریل میں تیل کا درآمدی بل بہت زیادہ تھا لیکن مئی میں یہ کم ہو کر پچاس کروڑ تک رہ گیا ہے۔
سولر پینل کی قیمتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ کس نے کہا تھا کہ سولر کا ریٹ بڑھ رہا ہے، میں افواہوں سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا، سب ذرائع کو سچ کی طرف واپس جانا چاہیئے اور احتساب کرنا چاہیئے۔بڑے شہروں میں مکانات کے لیے قرضے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بڑے شہروں کے لیے ایک کروڑ روپے کا قرضہ شاید کم مالیت ہو، اس لیے اب ہمیں پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ یعنی حکومت اور نجی اداروں کے اشتراک کی جانب بڑھنا ہوگا، حکومت سندھ نے یہ کام کر کے دکھایا ہے اور اب نجی شعبے کو آگے بڑھانا ہوگا۔پیٹرول کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرولیم لیوی کی مد کو بڑھایا نہیں گیا، ہم پیٹرول اور ڈیزل پر صرف لیوی میں ردوبدل کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ساڑھے چار فیصد پر فنانسنگ کو ممکن بنانے پر وہ گورنر اسٹیٹ بینک کے دل سے شکر گزار ہیں۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کانفرنس کے دوران کہا کہ وزیرخزانہ نے کل ایک عوامی بجٹ پیش کیا، یہ تنخواہ دار، صنعتکار اور ایکسپورٹر کا بجٹ ہے، ترجیح تھی کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا جائے، وزیراعظم نے تنخواہ دار طبقے سے اپنا وعدہ پورا کیا ہے، وزیراعظم نے کاروباری برادری سے مسلسل رابطہ رکھا۔بلال اظہرکیانی نے کہا کہ بجٹ کی تیاری میں ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس سے مشاورت کی گئی، جبکہ برآمدی صنعت کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف اقدامات شامل کیے گئے، تنخواہ پر5 فیصد ٹیکس کو ایک فیصد کیا، 15 فیصد کو 13 فیصد کیا، تاہم بڑی تنخواہوں اور سرچارج اقدامات پراچھا فیڈبیک ملا ہے۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ بجٹ میں ان طبقات کو بھی ریلیف دیا، جن کوگزشتہ مالی سال نہیں دیا گیا، کمزور طبقات اور خواتین کیلئے بھی بجٹ میں حصہ رکھا گیا، مڈل کلاس طبقات کیلئے اپنا گھر سکیم متعارف کی گئی، مڈل کلاس پلاٹ توخرید لیتا ہے لیکن گھربنانے کے پیسے نہیں ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 6 لاکھ روپے سالانہ کمانے والے پرکوئی ٹیکس نہیں ہے، 6 سے 12لاکھ سالانہ آمدنی والے پرایک فیصد ٹیکس ہے،تاہم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 17 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دیا گیا، وزیراعظم کا وعدہ تھا جیسے ہی گنجائش پیدا ہوئی عوام کو ریلیف دیں گے، ایف بی آر کا کلچر تبدیل ہوچکا ہے، لیکج میں کمی کا آغاز شوگرانڈسٹری سے کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عوام کو ریلیف دینے کیلئے مسلسل کوشش کرتے ہیں، تنکا تنکا کرکےعوام کے ریلیف کیلئے گنجائش پیدا کی گئی ہے، بجٹ میں وزیراعظم نےعوام سے کیا وعدہ وفا کیا، بجٹ میں سب سے پہلے تنخواہ دار کا خیال رکھا گیا ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے ذریعےعوامی ریلیف کیلئے گنجائش پیدا کی گئی،تاہم بجٹ میں مڈل کلاس طبقے کیلئے بھی گنجائش پیدا کی گئی ہے، یہ مزدور، تنخواہ دار، صنعتکار اور ہرکسی کا بجٹ ہے۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کی پیش گوئیاں کی جا رہی تھیں، لیکن حکومت اور عوام نے مشکل حالات کا صبر و استقامت سے مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں میکرواکنامک استحکام حاصل ہوا، دنیا نے تعریف کی۔انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر اصلاحاتی ماڈل ورلڈ بینک کے سامنے پیش کیا گیا، رمضان پیکج میں لوگوں کو ڈیجیٹل والٹ بنا کردیئے، یہ بجٹ عوامی ریلیف کی ایک مکمل دستاویز ہے، تاہم کم آمدن طبقے کیلئے اپنا گھر سکیم متعارف کرائی گئی۔عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ایف بی آرکی ڈیجیٹائزیشن وزیراعظم کی نگرانی میں ہوئی، ایف بی آر سے سفارش کلچر کا خاتمہ کردیا، جبکہ وزیراعظم کی معاشی ٹیم نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔
اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وزیراعظم نے کہا پرال کو ایک اچھی آرگنائزیشن بنانا ہے، پرال سے بہتر بورڈ کسی کا نہیں، پرال اور ایف بی آر میں بہترین لوگ لارہے ہیں، تاہم پرال کو اوپن بجٹ دیا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں نئے لوگ آرہے ہیں، پاکستان چیزیں فروخت کرنے کی ایک چھوٹی سی جگہ ہے، فیکٹری میں بنی چیز جب بیرون ملک فروخت کریں گے، تب ہی ملک سے غربت ختم ہوگی، یہ ایکسپورٹ لیٹ گروتھ کا بجٹ ہے۔چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی سے ناواقف ہم پرانے لوگ تو ہوسکتے ہیں، لیکن اب افسران نوجوان ہیں، بہت سے ڈیجیٹل پلانز بن رہے ہیں، ٹیکنالوجی سے ناواقف ہم پرانے لوگ تو ہوسکتے ہیں، لیکن اب افسران نوجوان ہیں۔