اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) ملک کی سیاسی قیا دت نے یومِ آزادی کے موقع پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کی ہے ۔نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یوم آزادی کے موقع پر قائداعظم محمد علی جناح اور تحریک پاکستان کے رہنماﺅ ں و کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جرات، لگن اور بے شمار قربانیوں نے آزاد ریاست پاکستان کی بنیاد رکھی۔
اپنے پیغام میں اسحاق ڈار نے کہا کہ آزادی کے بعد پاکستان نے مختلف شعبوں میں نمایاں پیشرفت کی ہے، آج ہم 25 کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل ایک باہمت اور ثابت قدم قوم ہیں، گزشتہ 8 دہائیوں کے دوران پاکستان نے عالمی سطح پر بھی اپنی حیثیت کو مضبوط کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ رواں سال سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ تاریخی مکہ معاہدے پر دستخط کیے گئے، جو تزویراتی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے مشترکہ عزم کا مظہر ہے، مکہ معاہدہ اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے اور علاقائی امن و سلامتی کو درپیش بدلتے چیلنجز سے نمٹنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے معرکہ حق کی پہلی سالگرہ بھی منائی اور بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے پرعزم اور کامیاب ردعمل کو یاد کیا، اس موقع پر پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کی بھی تجدید کی گئی۔
نائب وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ یوم آزادی ہمیں اپنے قومی عزم کی تجدید اور ملک کی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کیلئے مل کر کام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ فاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہاکہ آج ہم اپنے بزرگوں کی بصیرت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور ایک مضبوط، خوشحال اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والے پاکستان کی تعمیر کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستان آج نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، معاشی استحکام مضبوط ہوا ہے، اصلاحات پالیسی سے عملدرآمد کی طرف بڑھ رہی ہیں، مالی اور بیرونی شعبے کے اشاریے بہتر ہو رہے ہیں اور معیشت اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ استحکام اب ہماری بنیاد ہے، اب ہم ترقی کے اگلے مرحلے کی جانب بڑھ رہے ہیں جہاں ہماری توجہ معاشی ترقی کو تیز کرنے، سرمایہ کاری لانے، برآمدات بڑھانے، روزگار پیدا کرنے اور اپنے لوگوں کےلئے مزید مواقع پیدا کرنے پر ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ اس سفر کا مرکز ہمارے لوگ ہیں جو ہماری سب سے بڑی طاقت اور سب سے اہم سرمایہ ہیں، نوجوانوں، خواتین، کاروباری افراد، کسانوں، محنت کشوں، فری لانسرز، جدت لانے والوں اور کاروباری اداروں کو ہنر اور مواقع فراہم کرنا پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارا مقصد واضح ہے کہ استحکام کو ترقی میں ، اصلاحات کو مواقع میں اور معاشی پیش رفت کو عوام کی بہتر زندگی میں بدلنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے لیکن سمت واضح ہے، تسلسل، مشترکہ کوشش اور پاکستان کی صلاحیت پر یقین کے ساتھ ہم آج کی پیش رفت کو کل کی خوشحالی میں بدل سکتے ہیں، یومِ آزادی مبارک، پاکستان پائندہ باد!۔فاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یومِ آزادی ہمارے لئے خوشی، شکرگزاری، فخر اور عزم کی تجدید کا دن ہے احسن اقبال نے کہا کہ آج کا دن اللہ تعالی کے حضور شکر بجا لانے اور قومی کامیابیوں پر خوشیاں منانے کا دن ہے،ہم معرکہ حق میں کامیابیوں پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے یومِ آزادی کا جشن منا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ہمیں آزادی کی حفاظت کے ساتھ معرکہ معیشت میں بھی پاکستان کا لوہا منوانا ہے، ہمیں بحیثیت قوم متحد ہو کر معاشی میدان میں پاکستان کو ایک مضبوط اور باوقار ملک بنانا ہے،پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور معاشی خودمختاری کے لئے پوری قوم کو متحد ہو کر آگے بڑھنا ہوگا۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال نے ایک آزاد اور خودمختار پاکستان کا خواب دیکھا، یومِ آزادی ہمیں قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کی عظیم جدوجہد، بصیرت اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں قائداعظم کے اتحاد، ایمان اور تنظیم کے اصولوں کو اپنی قومی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا، آج کے دن ہمیں عہد کرنا ہے کہ ہم پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال، خودمختار اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آزادی کی حفاظت صرف سرحدوں پر نہیں، معاشی، علمی، سائنسی اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں کامیابی سے بھی ہوتی ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے یومِ آزادی کے موقع پر اہلِ وطن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد، اور قوم کو آزادی کی خوشیاں مبارک ہوں۔ محسن نقوی نے کہا کہ 14 اگست ہماری درخشاں قومی تاریخ کا عظیم، یادگار اور ناقابلِ فراموش دن ہے۔
آزادی ہمارے بزرگوں کی عظیم جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کا ثمر ہے، تحریکِ پاکستان کے رہنماں بالخصوص قائداعظم محمد علی جناح کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم تحریکِ پاکستان کے رہنماں کے احسانات تاقیامت نہیں اتار سکتی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیادوں میں لاکھوں شہدا کا خون شامل ہے اور ان لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، دفاعِ وطن، قیامِ امن اور دہشت گردی کے خلاف جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے شہدا کو بھی سلام پیش کرتا ہوں۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایمان، اتحاد اور تنظیم جیسے سنہری اصول پاکستان کی طاقت، پہچان اور بقا کی سب سے بڑی ضمانت ہیں، آج وطنِ عزیز کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے پوری قوم کا متحد ہونا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ وطن کی خاطر ذاتی مفادات کو ترک کرکے صرف پاکستان کےلئے ایک ہونا ہوگا، یہ وطن ہم سب پر قرض ہے اور اس قرض کو فرض سمجھ کر ادا کرنا ہوگا، پاکستان جیسا خوبصورت اور وسائل سے مالا مال ملک پوری دنیا میں نہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم نے پاکستان کو ترجیح دینے کے بجائے باہمی اختلافات کو آگے بڑھایا۔انہوں نے زور دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ زبانی جمع خرچ کے بجائے پوری قوم یکجا ہو، صرف پاکستان کا سوچے اور پاکستان کےلئے آگے بڑھے، یومِ آزادی کا تقاضا ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر وطنِ عزیز کے روشن مستقبل کے لیے مل کر کام کیا جائے۔انہوں نے اہلِ وطن کو ایک بار پھر یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ اتحاد، اخلاص اور قومی ذمہ داری کے ساتھ پاکستان کو مزید مضبوط اور خوشحال بنایا جائے گا۔
ادھر وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ آزادی کے دن ہر پاکستانی کو تعمیرِ وطن میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کی تجدید کرنا ہوگی۔ یومِ آزادی کے موقع پر پاکستانی قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، محترمہ فاطمہ جناح اور تحریکِ پاکستان کے دیگر رہنماﺅں ، قیامِ پاکستان، تعمیرِ پاکستان اور تحفظِ پاکستان کےلئے جدوجہد کرنے والے شہدا اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور پاکستانی قوم کے ہر فرد کو سلام پیش کیا۔
وزیراعلی پنجاب نے وطن کے دفاع کے لئے خدمات انجام دینے والی افواجِ پاکستان اور سرحدوں کی حفاظت پر مامور جانباز سپاہیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔مریم نواز شریف نے اساتذہ، طلبہ و طالبات، مزدوروں، کارکنوں اور محنت کشوں کو بھی یومِ آزادی کی مبارکباد دی، ان کا کہنا تھا کہ آزادی کے دن ہر پاکستانی کو تعمیرِ وطن میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کی تجدید کرنا ہوگی، حکومت آنے والی نسلوں کو بہتر اور محفوظ پاکستان دینا چاہتی ہے، ان کے مطابق اگر ہر فرد اپنے حصے کا چراغ روشن کرے تو پورے وطن میں اجالا پھیل سکتا ہے۔
وزیراعلی نے کہا کہ سوہنی دھرتی کو چار چاند لگانے کے لیے اخلاص اور احساسِ ذمہ داری ہی حقیقی حب الوطنی ہے، نوجوان نسل کے لیے یومِ آزادی مستقبل سے عہدِ وفا نبھانے کا دن ہے، وہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں قلم، کتاب اور لیپ ٹاپ دیکھنا چاہتی ہیں، ان کے مطابق طلبہ کا دل لگا کر پڑھنا، اساتذہ کا دلجمعی سے پڑھانا، معالج کا احساسِ ذمہ داری اور تاجر کی دیانتداری بھی حقیقی حب الوطنی کے مظاہر ہیں۔
وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان تاقیامت ہے اور رہے گا، کسی کا باپ پاکستان کو نہیں توڑسکتا۔ جشن آزادی کے حوالے سے پولو گراﺅ نڈ میں پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں ہماری تمام فورسز امن کیلئے قربانیاں دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہدا کو یاد کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے وطن کیلئے اپنا خون بہایا ، ایف سی ،پولیس اور سویلین سمیت تمام شہدا کو یاد کرتا ہوں ۔
میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھاکہ یہ ملک ہمیں بہت قربانیوں کے بعد نصیب ہوا ، قربانیوں کا یہ سلسلہ اب بھی برقرار ہے ، بلوچستان میں ہماری تمام فورسز امن کیلئے قربانیاں دے رہی ہیں ،فورسز کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، تمام شہدا کے لواحقین دکھی ہیں، بلوچستان کے عوام لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ مختلف پروپیگنڈے کے ذریعے صوبے کے نوجوانوں کو بہکا رہے ہیں ، بلوچستان کے نوجوان اب ان کی ہر چال کو سمجھ چکے ہیں۔ وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ پاکستان تاقیامت ہے اور رہے گا ، کسی کا باپ پاکستان کو نہیں توڑسکتا، ہم محب وطن پاکستانی تھے، محب وطن پاکستانی ہیں اور محب وطن پاکستانی رہیں گے۔
ادھر گورنر ہاﺅہ س پشاور میں 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر پروقار پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ تمام اہلِ وطن کو جشنِ آزادی کی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں، اللہ تعالی کا شکر ہے کہ ہم ایک آزاد ملک میں آزادی کے ساتھ سانس لے رہے ہیں۔یوم آزادی کے موقع پر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان نے اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ آزادی کے موقع پر ہمیں آزادی کے مقاصد کو بھی یاد رکھنا ہوگا، یومِ آزادی ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم سوچیں، یہ آزادی کس قیمت پر حاصل کی گئی تھی؟۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے قوم کو پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کی دلی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ 14 اگست محض جشن کا دن نہیں بلکہ اپنے قومی عہد کی تجدید کا بھی دن ہے۔اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعلی نے کہا کہ پاکستان لاکھوں قربانیوں اور طویل جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا، اس لیے آج ہمیں دیانت داری سے سوچنا ہوگا کہ کیا موجودہ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے خواب کا پاکستان ہے، آزادی کا مقصد صرف ایک جغرافیائی خطے کا حصول نہیں تھا بلکہ ایسا پاکستان تشکیل دینا تھا جہاں آئین اور قانون کی بالادستی ہو، ہر شہری کو مساوی حقوق حاصل ہوں اور آزادیِ اظہار کو تحفظ حاصل ہو۔
انہوں نے کہا کہ آزادیِ اظہار پر قدغنیں قائداعظم کے وژن کے خلاف ہیں، جبکہ عوام کے مینڈیٹ اور بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، پاکستان کو سیاسی، معاشی اور ادارہ جاتی بحرانوں سے نکالنے کے لیے بنیادی اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی جمہوری احتساب، آزاد عدلیہ اور موثر ادارے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عظیم اور حقیقی معنوں میں آزاد بنانا موجودہ نسل کی ذمہ داری ہے۔ آزادی، انصاف، عزت اور مساوات کو ریاستی نظام کی بنیاد بنانا ہوگا۔
سہیل آفریدی نے نوجوانوں کو پاکستان کی اصل طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو انصاف، معیاری تعلیم، روزگار اور معاشی مواقع فراہم کرنا ہوں گے، نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں ان کی حقیقی شمولیت بھی یقینی بنانا ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے اسلاف کی قربانیوں کو صرف تقاریر اور قومی دنوں تک محدود نہیں کرنا چاہیے بلکہ شہدا کی قربانیوں کو بامعنی اور نتیجہ خیز بنانا ہماری ذمہ داری ہے، مالی خودکفالت اور معاشی استحکام حقیقی قومی آزادی کے لیے ناگزیر ہیں، معاشی طور پر کمزور ملک اپنے فیصلوں میں مکمل طور پر خودمختار نہیں رہ سکتا۔انہوں نے کہا کہ شفاف حکمرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنانا ہوگا۔
محمد سہیل آفریدی نے قوم پر زور دیا کہ یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان کو قائداعظم کے وژن کے مطابق بنانے کے عزم کی تجدید کی جائے۔انہوں نے تحریکِ آزادی اور ملکی دفاع کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم آزادی، خودمختاری اور دفاع کے لیے جانیں قربان کرنے والے شہدا کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔دریں اثنا جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 1947 میں اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم کی بنیاد پر پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ 1971 میں بنگلہ دیش کی صورت میں پاکستان کا اتحاد پارہ پارہ ہوگیا، ہمیں ایک قوم بن کر زندگی گزارنی تھی، 79 سال گزرنے کے باوجود ہم ایک قوم نہیں بن سکے۔
امیر جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ اتحاد کا تقاضا ہے کہ علاقائی، لسانی اور گروہی تقسیم سے بالاتر ہو کر پاکستانی قوم بن کر آگے بڑھیں، یقینِ محکم کا تقاضا یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ کے نام پر اور اسلام و دین کے تصور کے تحت بننے والے پاکستان کے مقصد کو سمجھا جائے۔ آج سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی مسلمان اسلام اور اپنے دینی تشخص کے حوالے سے مطمئن ہیں؟ ۔