اسلام آباد (کامرس ڈیسک) بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے گزشتہ دو برس کے دوران نمایاں مالی اور انتظامی بہتری حاصل کرتے ہوئے اپنا خسارہ 79 ارب روپے سے کم کر کے تقریباً 21 ارب روپے تک محدود کر دیا۔
لیسکو کی بہتر کارکردگی کے نتیجے میں قومی خزانے کو 58 ارب روپے سے زائد کی مالی بہتری حاصل ہوئی۔وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے لیسکو کی کارکردگی کو ادارہ جاتی اصلاحات، موثر نگرانی اور جدید انتظامی نظام کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وڑن کے تحت بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے باعث نمایاں بہتری آ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ لیسکو کی ریکوری پہلی مرتبہ 101.05 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس نے نیپرا کی جانب سے مقرر کردہ ہدف کو بھی عبور کر لیا۔
اسی طرح کمپنی کے لائن لاسز دو برس میں 15.8 فیصد سے کم ہو کر 11.86 فیصد رہ گئے، جو ملکی تاریخ میں کسی بھی بجلی تقسیم کار کمپنی (ڈسکو) کی جانب سے مختصر مدت میں بڑی کامیابی ہے۔وفاقی وزیر توانائی کے مطابق ایک کھرب روپے سے زائد سالانہ آمدن رکھنے والی لیسکو میں لائن لاسز کا ہر ایک فیصد کم ہونا تقریباً 10 ارب روپے کی مالی بہتری کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلنگ اور ریکوری نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، بجلی چوری کے خلاف مو¿ثر اقدامات اور مسلسل مانیٹرنگ نے کمپنی کی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سردار اویس لغاری نے کہا کہ پیشہ ورانہ بورڈ آف ڈائریکٹرز، جدید نظام، مو¿ثر گورننس اور انتظامی خودمختاری نے لیسکو کے نتائج کو تبدیل کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل نگرانی، اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی اور موثر احتساب کے ذریعے بجلی کے شعبے میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام ڈسکوز کی کارکردگی، لائن لاسز اور ریکوری کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ بااختیار انتظامیہ، غیر سیاسی انتظامی نظام اور موثر گورننس بجلی کے شعبے کی مالی حالت بہتر بنانے کی بنیاد ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ لیسکو کی کامیابی ثابت کرتی ہے کہ ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے گردشی قرضے کے بوجھ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اصلاحات کے اس ماڈل کو دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں بھی نافذ کیا جائے گا تاکہ پورے شعبے کی کارکردگی مزید بہتر بنائی جا سکے۔