کراچی(کورٹ نیوز ) سندھ ہائیکورٹ نے 19 سال پرانے جہیز واپسی کیس میں خاتون کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے شوہر کا دعوی مسترد کردیا۔ سندھ ہائیکورٹ نے ایک سابق جوڑے کے درمیان جہیز کی واپسی سے متعلق گزشتہ 19 برس سے زیرِ التوا اہم مقدمے کا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے خاتون کے موقف کو منظور کر لیا ہے، جبکہ سابق شوہر کا دعوی مسترد کر دیا گیا ہے۔
عدالتی ریکارڈ میں بتایا گیا کہ فریقین کے درمیان جہیز کی اشیا کی ملکیت اور واپسی کا یہ تنازع پچھلے 19 سال سے عدالت میں زیرِ سماعت تھا، جس پر اب فیصلہ آیا ہے۔کراچی سے تعلق رکھنے والے اس سابق جوڑے کے درمیان سال 2006 میں خلع ہوئی تھی۔ جس کے بعد خاتون نے اپنے جہیز کے سامان کی واپسی کے لیے سال 2007 میں باقاعدہ قانونی درخواست دائر کی تھی۔
خاتون نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے جہیز میں سونے کے قیمتی زیورات ، فرنیچر اور دیگر گھریلو اشیا شامل ہیں، جو علیحدگی کے بعد سے سابق شوہر کی جانب سے واپس نہیں کی جا رہی تھیں۔سندھ ہائیکورٹ نے دونوں فریقین کے تمام شواہد، گواہوں اور تفصیلی دلائل کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد سابق شوہر کا موقف اور دعوی خارج کر دیا اور خاتون کے حق میں ڈگری جاری کرتے ہوئے جہیز کی واپسی کا حکم دے دیا۔