سرگودھا(تعلیم ڈیسک)سرگودھایونیورسٹی میں موسمیاتی تبدیلیوں کے پاکستان پر ہونے والے اثرات پر منعقدہ سیمینار
میں وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس نے ایک رپورٹ کے اعدادوشمار دیتے ہوئے بتایا کہ گلوبل وارمنگ، جنگلات کے کٹا اور ہیٹ ویو کی وجہ سے گزشتہ برس پاکستان کے بڑے سیلاب میں 1700 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گے اورمجموعی طور پر 33 ملین افراد متاثر ہوئے۔
اس بدترین سیلاب سے پاکستانی معیشت کو 10بلین ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ سال بھر خطرناک موسمی حالات نے بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جبکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث پانی قلت اور وبائی امراض بڑھنے کے خطرات کا سامنا ہے۔متواتر موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث لوگوں کی زندگیوں اور روزگار کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے آب و ہوا کی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے وجہ سے پیدا ہونے غیر معمولی اثرات سے نمٹنے اور انہیں کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔وائس چانسلر نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کیلئے سکالرز اور محققین کو چاہیے کہ جدید تحقیق کو فروغ دیں کیونکہ علم کی طاقت سے ہی قدرتی آفات کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔اس موقع پر شہباز محمود نے کہا کہ پاکستا ن انتہائی موسمیاتی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔
انہوں نیکہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی کوئی مخصوص وجہ نہیں ہوتی۔ قدرتی مسائل کے علاہ انسانوں کے پیدا کردہ مسائل بھی اس کا سبب بنتے ہیں۔ محمد عدنان نے بتایا کہ پاکستان دنیا کے ایک ایسے مقام پر واقع ہے جہاں اسے دو بڑے موسمی نظاموں گرمی کی شدت اور مون سون کی بارشوں کے اثرات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جولائی میں اوسط بارشیں 51.5 ملی میٹر ہوتی ہیں تاہم اس سال یہ 150.1 ملی میٹر رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشوں کی زیادتی کی بنیادی وجہ ماحولیاتی بگاڑ ہے۔
ڈاکٹر محمد اشرف نے کہا کہ ماحولیاتی درجہ حرارت میں اضافہ کی بڑی وجوہات میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹروس آکسائیڈ کی مقدار میں اضافہ اور میتھین کی سطح بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میتھین کے اخراج پر قابو پانے اور صنعت، توانائی سمیت نقل و حمل کے نظام میں تبدیلی لا کر فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ انتہائی موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پایا جا سکے۔
قبل ازیں ڈاکٹر محمد اشرف نے سیمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور محققین کو ترغیب دی کہ وہ تحقیق کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں میں کمی لانے کیلئے حل تلا ش کریں تاکہ پاکستان کو قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے جنم لینے والے مسائل سے بچایا جا سکے۔آخر میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس نے مقررین کو اعزازی سرٹیفکیٹس تقسیم کئے۔












