اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے ملکی ترقی قومی خوشحالی اورعوام الناس کو ریاستی سرکاری سیاسی معاملات میں براہ راست شریک کیا ،
بھٹو شہید نے روٹی کپڑا مکان کا نظریہ دیا،بھٹو شہید عوام الناس کو فوائد پرمشتمل منشور،پروگرام،پالیسیاں دینے میں کامیاب رہے 70کے انتخابات میں عوام الناس نے پیپلز پارٹی کے نظریہ کو قبول کیا وہ نظریہ آج بھی قائم ہے ۔
ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل پیپلز لائرز فورم کے مرکزی انچارج سید نیر حسین بخآری نے پیپلز لائرز فورم کے زیراہتمام راولپنڈی میں نظریہ جدوجہد شہادت سیمینار میں بطور مہمان خصوصی خطاب میں کیا ۔تقریب سے ساجد تنولی ،اسرار عباسی ،راجہ نذیر ،آنسہ ستی ایڈوکیٹس نے بھی خطاب کیا ۔نیر بخاری نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو شہیدکا نظریہ موجود اور قائد عوام کروڑوں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں ،حق کے راستے پر چلتے ہوئے قومی عوامی نظریہ کی خاطر بھٹو اور بی بی شہید نے شہادت قبول کی ۔
نیر بخاری نے کہا کہ قومی راہبر عوامی لیڈر بھٹو قوم کی خاطر پھانسی کا پھندا چوم گئے سمجھوتہ نہیں کیا ، تاریخ میں بھٹواب بھی زندہ اور دشمننان بھٹو ہمیشہ کیلئے شرمندہ رہینگے ۔نیر بخاری نے کہا کہ قوم کی نڈر جرات مند اور دلیر بیٹی بی بی شہید دھمکیوں اور خطرات کے باوجود پاکستان آئی عوام میں رہ کر آمر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ملک کو دہشتگردی کے ناسور سے پاک کرنے کیلئے میدان عمل میں رہی ۔نیر بخاری نے کہا کہ قوم کیلئے جام شہادت نوش کیا بی بی شہید کی بے مثال جدوجہد بے نظیر شہادت ہے بی بی کی شہادت کے آئینی جمہوری ثمرات سے مستفید ہو رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی بصیرت والے بھٹوز کے سیاسی وارثین آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن سے ملکر ملک کیلئے ہٹلر ثانی بننے والے عمران نیازی کو آئینی ہتھیار سے نکالا ہی ملک چلا سکتے ہیں جس طرح ہٹلر جرمنی کو تقسیم کر گیا۔ انہوںنے کہاکہ عمران بھی ملک کو تقسیم کرنے چاہتا تھا پیپلز پارٹی نے اپوزیشن سے ملکر عمران نیازی کے پاکستانیت تقسیم و انتشار کو ناکام کیا ۔
نیر بخاری نے کہا کہ آئین کے تحت صرف پارلیمنٹ بالادست ہے اور قانون سے کوئی بالاتر نہیں ،پاکستان دل و جان سے عزیز ہے قومی سلامتی کے خلاف سازش کرنے اور فوجی تنصیبات و یادگاروں پر حملہ آوروں کے خلاف آرمی ایکٹ نافذ ہونا چاہیے، کوئی شہری فوجی تنصیبات کا مجرم ہے تو آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چکے گا کورٹ مارشل اور فوجی عدالتوں میں فرق ہے ،شہدا کی بے حرمتی کوئی نریندر یار ہی کر سکتا ہے وطن پر جانیں نچھاور کرنے والے قدمی ہیروز اور خاندان قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں ۔












