اسلام آباد (کامرس ڈیسک) حکومت نے ٹیرف اصلاحات کے دوسرے مرحلے کے تحت درآمدی ڈیوٹیز میں بڑی کمی کا فیصلہ کر لیا۔ملک میں معاشی سرگرمیوں کےفروغ اورتجارتی نظام میں مسابقت بڑھانے کیلئے پانچ سالہ نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 تیارکرلی گئی،کسٹمز،ریگولیٹری اور ایڈیشنل ڈیوٹیز میں مرحلہ وار نمایاں کمی،اوسط ٹیرف کو 20.19 فیصد سے کم کر کے 9.70 فیصد تک لانے کا ہدف ہے،اس سے ریونیو کی مد میں 143 ارب روپے نقصان کا خدشہ ہے تاہم پارلیمانی حلقوں کے مطابق اس اقدام سے مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے گا اور درآمدی لاگت میں کمی آئے گی۔
حکام کے مطابق پانچ سال میں کسٹمز ڈیوٹی کو زیادہ سے زیادہ 15 فیصد تک محدود کرنے کی تجویز ہے، جبکہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی کو 6 فیصد سے کم کرکےبتدریج صفر کرنے کا پلان شامل ہے،ریگولیٹری ڈیوٹی کی زیادہ سےزیادہ شرح بھی 20 فیصد تک محدود رکھنے اور اسےمرحلہ وار ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وزارت تجارت کے مطابق 5 سال میں درآمدی ڈیوٹی کی اوسط شرح 16.56 فیصد تک کم کرنے کا ہدف ہے، انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈنےمقامی اور درآمدی گاڑیوں پریکساں ٹیرف کی سفارش بھی کی ہے،نئی پالیسی کے تحت مقامی صنعت اور درآمدی مارکیٹ کیلئے یکساں مواقع فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔