کراچی(نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہاہے کہ آئی پی پیز پر کرپشن کی تصدیق ہوچکی ہے، حکمرانوں نے آئی پی پیز سے ظالمانہ معاہدے کیے ہیں۔
ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان کا مطالبہ ہے کہ بجلی کے بلوں پر ٹیکس ختم کیے جائیں۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمرانوں نے آئی پی پیز سے ظالمانہ معاہدے کیے ہیں، تحریک انصاف نے کمیٹیاں بنائی، جس میں آئی پی پیز پر کرپشن کی تصدیق ہوئی تاہم 4 سال میں پی ٹی آئی نے ان معاہدوں پر نظر ثانی نہیں کی۔ پاکستان اس طبقے کے ہاتھوں یرغمال ہے حکومت کوئی بھی ہو۔
انہوں نے کہاکہ اسحاق ڈار نے کہا کہ زراعت پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جارہا ہے، نگراں حکومت زرعی زمین پر ٹیکس کیوں نہیں لگاتی؟ 25 ایکڑ سے زائد زرعی زمین پر ٹیکس ہونا چاہیے۔امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہاکہ حکومتی پارٹی بتائے کہ کے الیکٹرک شہر پر کیوں مسلط ہے، بتائیں کس قانون کے تحت آئی ایم ایف کے نام پر دوسرے ممالک سے رابطے کیے جاتے ہیں۔ ایم کیو ایم جواب دے جو ہنستے ہنستے کے الیکٹرک کے پاس جاتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کے مطابق کچھ لوگ ایسے ہیں جو بجلی چوروں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، چاہئے پلانٹ چلے یا نا چلے جارجز عوام کو دینے ہیں، مہنگائی کی وجہ سے لوگ خودکشیاں کررہے ہیں۔نگران کابینہ کے اجلاس میں کہا جارہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں کے لیے قسطیں کی جائے، ایسا لگتا ہے کہ متعلقہ حکام بجلی کی قیمتیں کم کرنے کے موڈ میں نہیں۔کے الیکٹرک نیپرا کا شیطانی گٹھ جوڑ ہے، کے الیکٹرک خود نادہندہ ہے شہریوں کی بجلی کیوں کاٹتا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کے الیکٹرک کو پابند کرے کہ ان کا کوئی آدمی میٹر کاٹنے نا نکلے، چند لوگ بل نہیں دیتے تو پوری آبادی کی بجلی کیسے کاٹ سکتے ہیں۔












