• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
پیر, 2 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home کرائم اینڈ کورٹس
سپریم کورٹ

جب آرڈر آف دی کورٹ جاری نہیں ہوا تو صدر نے الیکشن کی تاریخ کیسے دی؟ جسٹس جمال

News Editor by News Editor
مارچ 29, 2023
in کرائم اینڈ کورٹس
0 0
0

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر) سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ جب آرڈر آف دی کورٹ جاری نہیں ہوا تو صدر نے الیکشن کی تاریخ کیسے دی؟الیکشن کمیشن نے کیسے الیکشن شیڈول جاری کیا؟۔چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ سماعت کی ۔

سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہوئی تو جسٹس جمال مندوخیل نے اپنے کل کے ریمارکس پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کل میرے ریمارکس پر بہت زیادہ کنفیوژن ہوئی ہے، میں اپنے ریمارکس کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں، میں اپنے تفصیلی آرڈر پر قائم ہوں، فیصلے کا ایک حصہ انتظامی اختیارات کے رولز سے متعلق ہے، چیف جسٹس کو کہیں گے کہ رولز دیکھنے کے لیے ججز کی کمیٹی بنائی جائے، ججز کی کمیٹی انتظامی اختیارات کے رولز کو دیکھے، فیصلے کے دوسرے حصے میں ہم 4 ججز نے ازخود نوٹس اور درخواستیں مستردکی ہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ چارججز کا فیصلہ ہی آرڈر آف دی کورٹ ہے، یہ آرڈر آف دی کورٹ چیف جسٹس پاکستان نے جاری ہی نہیں کیا، جب فیصلہ ہی نہیں تھا تو صدر نے الیکشن کی تاریخ کیسے دی، الیکشن کمیشن نے کیسے الیکشن شیڈول جاری کیا؟ آج عدالت کے ریکارڈ کی فائل منگوالیں، اس میں آرڈر آف دی کورٹ نہیں ہے، آرڈر آف دی کورٹ پر تمام جج سائن کرتے ہیں۔

وکیل فاروق نائیک نے یکم مارچ کے فیصلے کی وضاحت کے لیے فل کورٹ بنانےکی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کےتقاضوں کے لیے ضروری ہے کہ یہ فیصلہ ہوکہ فیصلہ 4/3 تھا یا 3/2 کا، پورے ملک کی قسمت کا دار ومدار اس مدعے پر ہے، قوم ایک مخمصے میں پھنسی ہوئی ہے، سپریم کورٹ کو عوام کی عزت، وقار اور اعتماد کو برقرار رکھنا ہے۔ چیف جسٹس نے فاروق نائیک کو ہدایت کی کہ اپنی درخواست تحریری طورپرجمع کرائیں، عدالت کے ماحول کو خراب نہ کیا جائے۔

فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ کیس کی سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے، یہ کیس سننے سے پہلے اس بات کا فیصلہ ہونا چاہیےکہ فیصلہ 4/3 کا ہے، پہلے دائرہ اختیار کے معاملے پر فیصلہ کریں۔ چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ اس مدعے پر فیصلہ تب کریں گے جب درخواست سامنے ہو، پرسکون رہیں، پرجوش نہ ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے ہم الیکشن کمیشن کو سنیں گے، آپ تمام لوگ پی ڈی ایم کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس پر فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کا حصہ نہیں اتحادی حکومت کا حصہ ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی روسٹرم پر آئے تو جسٹس جمال نے کہا کہ پہلے الیکشن کمیشن یہ بتائے کہ انہوں نے شیڈول جاری کیسے کیا؟ الیکشن کمیشن کے پاس جب آرڈرآف دی کورٹ آیا ہی نہیں تو اس نے عمل کیسے کیا؟ سپریم کورٹ کا حکم وہ ہوتا ہے جو آرڈر آف دی کورٹ ہو، وہ جاری نہیں ہوا، کیا آپ نے عدالت کا مختصر حکم نامہ دیکھا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ممکن ہے فیصلہ سمجھنے میں ہم سے غلطی ہوئی ہو۔

جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ کیا مختصر حکم نامے میں لکھا ہے کہ فیصلہ 4/3 کا ہے؟ یکم مارچ کے فیصلے میں کہیں درج نہیں کہ فیصلہ 4/3 کا ہے، اختلاف رائے جج کا حق ہے، ججز کی اقلیت کسی قانون کے تحت خود کو اکثریت میں ہونےکا دعوی نہیں کرسکتی۔ جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز کے ریمارکس فیصلے کے انتظامی حصے کی حد تک تھے۔ جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ کھلی عدالت میں 5 ججز نے مقدمہ سنا اور فیصلہ دے کر دستخط بھی کیے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مختصرحکم نامے میں لکھا ہے کہ اختلافی نوٹ لکھے گئے ہیں، اختلافی نوٹ میں واضح لکھا ہے کہ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے سے متفق ہیں، کیا جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اطہرمن اللہ کے فیصلے ہوا میں تحلیل ہوگئے؟ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جو معاملہ ہمارے چیمبرکا ہے اسے وہاں ہی رہنے دیں، اٹارنی جنرل اس نقطہ پر اپنے دلائل دیں گے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کا کیا موقف ہے؟ وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ چار تین کے فیصلے پر الیکشن کمیشن سے ہدایات نہیں لیں،

الیکشن کمیشن نے صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے کوششیں کیں، الیکشن کمیشن نے سیکشن57 کے تحت الیکشن کی تاریخ بھی تجویز کی، سپریم کورٹ کا فیصلہ 3 مارچ کو موصول ہوا تھا، الیکشن کمیشن نے اپنی سمجھ کے مطابق فیصلے پرعملدرآمد شروع کیا، الیکشن کمیشن نے ووٹ کے حق اور شہریوں کی سکیورٹی کو بھی دیکھنا ہے، صدر کی طرف سے تاریخ ملنے پر انتخاباتی شیڈول بھی جاری کردیا تھا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے 22 مارچ کے فیصلہ کو چیلنج کیا گیا ہے، الیکشن کمیشن نے 22 مارچ کا آرڈر کس وقت جاری کیا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ انتخابات ملتوی کرنے کا حکم 22 مارچ شام کو جاری کیا، جب آرڈر جاری کیا تو کاغذات نامزدگی سمیت شیڈول کے مراحل مکمل ہوچکے تھے، فوج نے الیکشن کمیشن کو سکیورٹی دینے سے انکار کیا،

آرٹیکل17 ووٹنگ کا حق پرامن ماحول میں پورا ہونے کی بات کرتا ہے، آئین کے مطابق انتخابات صاف شفاف پرامن سازگار ماحول میں ہونے چاہئیں، الیکشن کمیشن نے2 فروری کو فوج، رینجرز اور ایف سی کوسکیورٹی کے لیے خط لکھے، خیبرپختونخوا میں خفیہ ایجنسیوں نے رپورٹس دیں کہ افغانستان سے دہشت گرد داخل ہوچکے، خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کے ساتھ الیکشن کمیشن کے اجلاس بھی ہوئے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ دہشت گردی سے متعلق باتیں بہت اہم ہیں،خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے متعلق رپورٹس سنجیدہ ہیں، کیا یہ سب صدر مملکت کو بتایا گیا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تمام صورتحال سے متعلقہ حکام کو آگاہ کیا تھا، عدالت کہے گی تو خفیہ رپورٹس بھی دکھادیں گے، بھکر، میانوالی میں مختلف کالعدم تنظیموں کی موجودگی ظاہرکی گئی، الیکشن کے لیے مختلف فورسز کی 4 لاکھ 12 ہزارنفری مانگی گئی، 2 لاکھ 97 ہزار سکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے، الیکشن کمیشن کو فروری میں ہی معلوم تھا کہ6 سے8 ماہ تک انتخابات کرانا ممکن نہیں۔

جسٹس منیب نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے التوا میں8 فروری کے خطوط پر انحصارکر رہا ہے، عدالت نے یکم مارچ کو اپنا فیصلہ دیا، آپ کو تو فروری میں ہی پتا تھا کہ اکتوبر میں الیکشن کروانا ہے، دوسری طرف الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ عدالتی فیصلے سے انحراف کا سوچ بھی نہیں سکتے، اگر اکتوبر میں الیکشن کروانا تھا تو الیکشن کمیشن نے صدر کو 30 اپریل کی تاریخ کیوں تجویزکی؟

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Tags: آرڈرانتخابات ملتویپنجابجسٹس جمال مندوخیلخیبر پختونخوادرخواست
Previous Post

اس وقت مشکلات کا سامنا ہے ، ا سٹیک ہولڈرز کو مل کر بات کرنی چاہیے، خواجہ آصف

Next Post

آئین پاکستان تمام اداروں کے درمیان توازن کا ضامن ہے ، شہبازشریف

News Editor

News Editor

Next Post
شہبازشریف

آئین پاکستان تمام اداروں کے درمیان توازن کا ضامن ہے ، شہبازشریف

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5879

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

570
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

464
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

279

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading