تہران (انٹرنیشنل نیوز)ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے بارے میں ایک معاہدہ ہونے کے قریب ہے اور اس کے تحت آبنائے ہرمز بھی کھولی جائے گی۔
عباس عراقچی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ ہم پہلے کبھی معاہدے کے اتنے قریب نہیں تھے اور یہ اگلے ایک یا دو دن میں ہو سکتا ہے یا اگلے کچھ دنوں میں، معاہدے کے 14 نکات ہوں گے، عوام کو ایک ایک تفصیل بتائیں گے۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے ایک مرتبہ پھر ملک کے میڈیا پر زور دیا کہ وہ ایسی قیاس آرائیوں سے گریز کریں جو ماحول خراب کر سکتی ہیں اور اس موقع کو متاثر کر سکتی ہیں، یہ مفاہمتی یادداشت ڈیڑھ یا دو صفحات پر مشتمل ہے لیکن اس پر دو ماہ سے زائد عرصے تک مذاکرات ہوتے رہے اور اس کی ہر شق اور ہر جملے کا کئی بار جائزہ لیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ اس متعلق قومی سلامتی کونسل اور سکیورٹی اداروں کو بروقت رپورٹس پیش کی گئی ہیں، جبکہ افواج نے بھی اہم معاملات بشمول آبنائے ہرمز اور جنگ کے خاتمے پر نظر رکھی ہے، یہ عمل ایرانی عوام کے مفادات میں ہے۔عراقچی کا مزید کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کی خودمختاری ہے، اور اب تک یہ خدمات مفت فراہم کی جاتی رہی ہیں، لیکن ایران کا حتمی فیصلہ ہے کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظام کا طریق کار ماضی سے مختلف ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ عبوری معاہدہ پہلا قدم ہے، اگر عبوری معاہدہ نافذ نہ ہوا تو جوہری مذاکرات نہیں ہوں گے، ایران امریکہ کے خلاف جنگ کا فاتح ہے، ایران امریکہ جنگ کے بعد مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے، مفاہمتی یادداشت پر ابھی دستخط نہیں ہوئے، تبدیلی ممکن ہے، جوہری معاملات بعد کے مراحل میں زیر بحث آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کا اعلان تمام محاذوں پر بشمول لبنان عبوری معاہدے کے تحت ہوگا، لبنان میں جنگ کے خاتمے کا مطلب اسرائیل کا قبضہ شدہ علاقوں سے انخلا ہے، اسرائیل جیسے دشمن ایران امریکہ معاہدے کے خلاف ہیں۔عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کی ناکہ بندی ختم اور آبنائے ہرمز کھولنا عبوری معاہدے کا حصہ ہے، امریکہ کی دھمکیاں بند ہونی چاہئیں، ایران دبا میں نہیں آئے گا۔ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کیلئے یورینیم ذخائر کا واحد حل مواد کو کم سطح پر لانا ہے، ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی۔