تہران(انٹرنیشنل نیوز )امریکی بحری ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد 5 ایرانی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گئے جبکہ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور جزیرہ قشم کے نزدیک تین دھماکوں کی آواز سنی گئی ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق کم از کم تین ایرانی تیل بردار جہاز اور دو کارگو جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گئے ہیں،یہ جہاز امریکہ کی ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے باعث کئی ماہ سے پھنسے ہوئے تھے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ رپورٹ کے مطابق ایک بہت بڑا خام تیل بردار جہاز ایرانی بندرگاہوں کی طرف روانہ ہو چکا ہے۔آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں میں یہ اضافہ معاہدے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور سمندری راستے کی بتدریج بحالی کی عکاسی کرتا ہے۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد بحری جہاز آبنائے ہرمز سے روانہ ہونا شروع ہو گئے ہیں اور ان میں سے کئی جہاز تیل سے بھرے ہوئے ہیں۔انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ جہاز جنوبی راستے سے گزر رہے ہیں، جو ان کے بقول بالکل محفوظ، قابلِ اعتماد اور صاف و شفاف ہے۔جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز کے مغرب میں خلیج کے علاقے میں 230 سے زائد آئل ٹینکرز اور 250 کارگو جہاز موجود ہیں، جن کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں چھوٹی کشتیاں اور ٹگ بوٹس بھی دیکھی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹریک کیے گئے آئل ٹینکرز میں سے صرف ایک محدود تعداد مکمل طور پر سامان سے لدی ہوئی ہے، جبکہ زیادہ تر ٹینکرز خالی یا جزوی طور پر لوڈ ہیں۔دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب آبنائے ہرمز اور جزیرہ قشم کے نزدیک تین دھماکوں کی آواز سنی گئی ۔ رپورٹکے مطابق پہلے دو دھماکے پیر کی رات دیر گئے ہوئے جبکہ تیسرا دھماکہ منگل کی صبح سنا گیا ہے۔ یہ دھماکے آبنائے ہرمز میں ہوئے تھے اور ان کا مقصد وہاں سے گزرنے والی بحری ٹریفک کو کنٹرول کرنا تھا۔تاحال کسی سرکاری ادارے بشمول ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ۔