افغانستان میں انٹرنیٹ بندش کی خبروں پر طالبان کی وضاحت، تکنیکی مسائل کو ذمہ دار قرار دیا

کابل: طالبان حکومت نے افغانستان میں ملک گیر انٹرنیٹ پابندی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں سروس متاثر ہونے کی وجہ تکنیکی مسائل اور فائبر آپٹک کیبلز کی تبدیلی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق طالبان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پیر کو افغانستان میں بڑے پیمانے پر کمیونی کیشن بلیک آؤٹ ریکارڈ کیا گیا۔ انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے "نیٹ بلاکس” نے رپورٹ کیا کہ 4 کروڑ 30 لاکھ آبادی والے ملک میں مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ ہوا جس سے عوامی رابطوں کے ساتھ ساتھ بینکاری، تجارت اور فضائی نظام بھی شدید متاثر ہوا۔

طالبان حکام نے پاکستانی صحافیوں کو واٹس ایپ گروپ میں بتایا کہ انٹرنیٹ پر پابندی کی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں، سروس متاثر ہونے کی اصل وجہ پرانے انفراسٹرکچر کی تبدیلی ہے۔ تاہم افغان میڈیا کا دعویٰ ہے کہ طالبان نے موبائل کمپنیوں کو 3G اور 4G انٹرنیٹ سروسز بند کرنے کی ڈیڈلائن بھی دی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی افغانستان کے مختلف صوبوں بشمول بلخ، بدخشاں، تخار، ہلمند، قندھار اور ننگرہار میں انٹرنیٹ سروسز مختلف وجوہات کی بنا پر معطل کی جا چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بار بار کی بندش نے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ معیشت کو بھی شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

5 تبصرے ”افغانستان میں انٹرنیٹ بندش کی خبروں پر طالبان کی وضاحت، تکنیکی مسائل کو ذمہ دار قرار دیا

اپنا تبصرہ لکھیں