اجتماعی زیادتی

کراچی میں 22 لڑکیوں سے زیادتی کے کیس کا ڈراپ سین، اصل کہانی سامنے آگئی

کراچی(کرائم رپورٹر) 22 لڑکیوں سے زیادتی کے ہائی پروفائل کیس کا ڈراپ سین ہوگیا ، اصل معاملہ پسند کی شادی نکلا۔تفصیلات کے مطابق سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں خاتون تفتیشی افسر سب انسپکٹر روبینہ شاہین کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد میڈیا کی توجہ کا مرکز بننے والے 22 لڑکیوں سے زیادتی اور اغوا کے سنسنی خیز مقدمے کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔

تفتیشی افسر عدالت میں زیادتی کے دعووں سے متعلق کوئی بھی شواہد پیش کرنے میں مکمل ناکام رہیں۔عدالت میں سماعت کے دوران مبینہ طور پر اغوا اور زیادتی کا شکار بتائی جانے والی لڑکی نے دفعہ 164 کے تحت اپنا حلفیہ بیان قلمبند کراتے ہوئے اغوا اور زیادتی کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا اور معاملے کو پسند کی شادی قرار دے دیا۔سماعت کے دوران جب جج نے لڑکی سے استفسار کیا کہ "آپ کس کے ساتھ جانا چاہتی ہیں؟ لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ "مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا، میں اپنی مرضی سے نریش نامی نوجوان کے ساتھ گئی تھی اور ہم دونوں نے پسند کی شادی کی ہے۔

لڑکی کا مزید کہنا تھا کہ اغوا اور زیادتی کا یہ مقدمہ بالکل جھوٹا ہے، پولیس مجھے اور میرے شوہر کو بلاوجہ تنگ کر رہی ہے، جبکہ ہمارے گھر والوں کو بھی اس شادی پر اب کوئی اعتراض نہیں ہے۔عدالت نے متاثرہ لڑکی کا بیان قلمبند کرنے کے بعد اسے اپنے شوہر نریش کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی تاہم، عدالت نے ملزم شوہر کو حکم دیا کہ وہ لڑکی کو ساتھ لے جانے کے لیے 50 ہزار روپے کے حفاظتی مچلکے جمع کرائے۔

یاد رہے کہ خاتون پولیس افسر روبینہ شاہین کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں انہوں نے اس کیس کو 22 لڑکیوں کی زیادتی کا ایک بہت بڑا اسکینڈل بنا کر پیش کیا تھا، جو عدالت میں تفتیش اور شواہد کے مرحلے پر جھوٹا ثابت ہوا۔
٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ لکھیں