وزیر دفاع

چین سے خطرات بدستور برقرار، فلپائن کو اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے مضبوط رہنا ہوگا: وزیر دفاع

سنگاپور(نیوز ڈیسک ) فلپائن کے وزیر دفاع گلبرتو تیودورونے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے باوجود فلپائن کو چین کی جانب سے اپنی علاقائی خودمختاری اور سیاسی سلامتی کے حوالے سے بدستور سنگین خطرات کا سامنا ہے۔

سنگاپور میں ہونے والے ایشیا کے ممتاز دفاعی فورم شنگھائی ڈائیلاگ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فلپائنی وزیر دفاع نے کہا کہ بڑی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اور چین، کے درمیان تعلقات میں بہتری ایک فطری عمل ہے، تاہم فلپائن جیسے ممالک کو اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ثابت قدم رہنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ فلپائن کے پاس چینی دباو¿ اور جارحانہ رویوں کا مقابلہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں، اس لیے ملک اپنی دفاعی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ اور بین الاقوامی شراکت داریوں کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔

فلپائن اور چین کے درمیان گزشتہ چند برسوں سے جنوبی چین کے سمندروں میں متعدد بحری تنازعات سامنے آ چکے ہیں۔ بیجنگ اس سمندری خطے کے وسیع حصے پر دعویٰ کرتا ہے، جبکہ فلپائن، ویتنام، ملائیشیا، برونائی اور تائیوان بھی اس علاقے پر اپنے حقوق کا دعویٰ رکھتے ہیں۔گیلبرٹو تیوڈورو نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر کے درمیان حالیہ ملاقات یا مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث فلپائن اور امریکہ کے باہمی دفاعی معاہدے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

اپنا تبصرہ لکھیں