چار ہزار سال بعد دریافت ہونے والا انسانی لمس: مصری مقبرے کا حیرت انگیز راز

کیمبرج کے فٹزولیم میوزیم میں نمائش کے لیے تیار کی جانے والی ایک قدیم مصری شے پر اچانک ایک ایسا ہاتھ کا نشان سامنے آگیا جو چار ہزار سال سے نظروں سے اوجھل تھا۔
ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ نشان ممکنہ طور پر اس کاریگر کا ہے جس نے یہ مٹی سے بنا ماڈل تیار کیا تھا اور اسے سوکھنے سے پہلے چھو لیا تھا۔

سینئر ایجپٹولوجسٹ ہیلن اسٹرڈوک کا کہنا تھا کہ اگرچہ ماضی میں تابوتوں پر انگلیوں کے نشان ملے ہیں، لیکن مکمل ہاتھ کا نشان ملنا ایک نایاب اور غیر معمولی واقعہ ہے، جو ہمیں ہزاروں سال پہلے کے انسانی احساس سے جوڑتا ہے۔

یہ دریافت نہ صرف آثارِ قدیمہ کی دنیا میں دلچسپی کا باعث بنی ہے بلکہ یہ اس دور کے فن اور انسانیت کی جھلک بھی پیش کرتی ہے۔

3 تبصرے ”چار ہزار سال بعد دریافت ہونے والا انسانی لمس: مصری مقبرے کا حیرت انگیز راز

  1. Hello! I could have sworn I’ve been to this blog before but after browsing through some of the post I realized it’s new to me. Anyways, I’m definitely happy I found it and I’ll be book-marking and checking back frequently!

    http://www.arderborelnot.com/

  2. Somebody essentially help to make seriously articles I would state. This is the first time I frequented your website page and thus far? I surprised with the research you made to make this particular publish amazing. Great job!

    https://wc2023.in/

اپنا تبصرہ لکھیں