وزیراعلی پنجاب

وزیر اعلی پنجاب کا 150 سی سی تک کی موٹر سائیکلوں کی ٹرانسفر فیس ختم کرنے کا اعلان

لاہور(نیوز رپورٹر )وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے موٹر سائیکل سواروں کےلئے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے 150 سی سی تک کی موٹر سائیکلوں کی ٹرانسفر فیس ختم کر دی۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری پیغام میں کہا کہ عوام کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے بچانے کےلئے حکومت نے 150 سی سی تک موٹر سائیکلوں کی ٹرانسفر فیس ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پنجاب حکومت کے مطابق موٹر سائیکل سواروں کے لیے اپریل اور مئی 2026 کے دوران متعدد ریلیف اقدامات کیے گئے ہیں، جن کا مقصد عام شہریوں کو معاشی سہولت فراہم کرنا اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کو بہتر بنانا ہے۔حکومتی اعلان کے تحت رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالکان کو ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ 6 اپریل سے 5 مئی 2026 تک موٹر سائیکل ٹرانسفر فیس، ایڈیشنل رجسٹریشن مارک فیس اور اسمارٹ کارڈ فیس بھی معاف کر دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق موٹر سائیکل ٹرانسفر فیس 605 روپے، ایڈیشنل رجسٹریشن مارک فیس 1000 روپے جبکہ اسمارٹ کارڈ فیس 1300 روپے معاف کی گئی ہے۔ شہری اس ریلیف سے فائدہ اٹھانے کے لیے مریم کو بتائیں ایپ، ہیلپ لائن 1000 یا سرکاری ویب پورٹل کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے موٹر سائیکل سواروں کو براہ راست مالی ریلیف ملے گا۔دوسری جانب حکومت نے الیکٹرک بائیکس، رکشہ اور لوڈرز کی خریداری پر سبسڈی سکیم کے دوسرے مرحلے کی تفصیلات جاری کر دیں۔

پہلے مرحلے میں 41 ہزار گاڑیوں کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جس کیلئے 2 لاکھ 69 ہزار سے زائد افراد نے درخواستیں جمع کروائیں، تاہم قرعہ اندازی کے ذریعے 41 ہزار افراد کا انتخاب کیا گیا۔ اب تک 1,334 الیکٹرک بائیکس فراہم کی جا چکی ہیں جبکہ سبسڈی کی رقم بھی براہ راست صارفین کے اکانٹس میں منتقل کی جا رہی ہے۔فیز ٹو کے تحت ہر الیکٹرک بائیک پر 80 ہزار روپے سبسڈی دی جائے گی اور آئندہ تین ماہ میں مزید ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس متعارف کروائی جائیں گی۔ گریڈ 16 یا اس سے کم درجے کے سرکاری ملازمین کو بلاسود بائیک یا رکشہ فراہم کیا جائے گا، جس کیلئے صرف 10 ہزار روپے ابتدائی ادائیگی ہوگی جبکہ باقی رقم اقساط میں تنخواہ سے کٹوتی کے ذریعے وصول کی جائے گی۔

نئی پالیسی کے مطابق متعلقہ کمپنیاں صارفین کو براہ راست گاڑیاں فراہم کریں گی جبکہ حکومت بعد ازاں سبسڈی کی رقم کمپنیوں کو ادا کرے گی۔ درخواست دینے کا نیا طریقہ بھی متعارف کروایا گیا ہے جس میں پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر درخواستوں کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ صوبائی کوٹہ بھی برقرار رکھا جائے گا۔اس کے علاوہ 600 نمایاں سرکاری کالج طلبہ کو مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، اس سال مجموعی طور پر 1 لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 3,170 رکشے و لوڈرز تقسیم کیے جائیں گے، جس سے ایندھن کی مد میں نمایاں بچت متوقع ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں