تہران(انٹرنیشنل نیوز )ایران کے چیف مذاکرات کار اور سپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف نے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ امریکا کی ناکامی کا دستاویزی ریکارڈ ہے، طاقت کے ساتھ بات کر رہے ہیں، امریکا پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا، ہماری انگلی ٹریگر پر ہے ۔
ایرانی پریس ٹی وی کو انٹرویو میں سپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ طاقت اور اعتماد کی پوزیشن میں مذاکرات کر رہا ہے، حالیہ مذاکرات ایران کی میدان جنگ میں کامیابیوں کے باعث ہو رہے ہیں۔باقر قالیباف نے کہا کہ آج ایران کی طاقت کو دوست اور مخالف دونوں تسلیم کر رہے ہیں، موجودہ اور ماضی کے مذاکرات میں یہی بنیادی فرق ہے، عسکری کامیابیوں کو مستقل سیاسی اور قانونی کامیابی میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی و قانونی دستاویز کے بغیر کسی بھی جنگی کامیابی کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا مقصد قومی مفادات کا تحفظ اور دیرپا حل کا حصول ہے، ایران اپنی کامیابیوں کو سفارتی میدان میں بھی موثر انداز میں استعمال کر رہا ہے۔
معاہدہ ہونے کے باوجود امریکا پر سب سے زیادہ بداعتمادی اور بدگمانی ہے، امریکا پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا، ہماری انگلی اب بھی ٹریگر پر ہے۔ا اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ حتمی طور پر طے بھی پا جائے اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی منظوری بھی حاصل ہو جائے، تب بھی امریکا پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ سفارتی محاذ اور عسکری محاذ کے درمیان فاصلہ بہت کم ہے اور ہمارا ہاتھ ٹریگر پر ہے۔
باقر قالیباف نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کی صورتحال میں واپس نہیں جائے گی، آبنائے ہرمز پر خودمختاری ایران کا حق ہے اور یقینا ہم خدمات کے عوض فیس وصول کریں گے، اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں سے 60 دن کے بعد فیس لینا شروع کر دیں گے ۔، اس کا مطلب بین الاقوامی قوانین یا بحری جہاز رانی کے خلاف اقدام نہیں۔ ایران آبنائے ہرمز میں فراہم کی جانے والی خدمات کےلئے فیس وصول کرے گا، 300 ارب ڈالر ایران میں سرمایہ کاری کے لیے مختص کیے گئے ہیں، 300 ارب ڈالر کا ایک حصہ تعمیرِ نو پر خرچ ہوگا۔