اسلام آباد (کامرس ڈیسک)ملک میں مہنگائی 22 ماہ کے بعد ایک بار پھر ڈبل فیگر میں داخل ہو گئی ، جس سے ملک کے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات دوچند ہو گئی ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اپریل میں قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر تقریبا 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مہنگائی کی شرح میں اس اضافے کی بڑی وجہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور ضروری غذائی اشیا کی قیمتوں میں تیز اضافہ ہے۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس سے قبل مہنگائی 10 فیصد سے زائد جولائی 2024 میں ریکارڈ کی گئی تھی، جب کنزیومر پرائس انڈیکس 11.1 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔
گزشتہ ماہ اپریل میں مہنگائی انڈیکس میں ہونے والا یہ اضافہ عام شہری کے روزمرہ اخراجات پر بڑھتے ہوئے دبا کو ظاہر کرتا ہے۔ایندھن اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے کرایوں کے ساتھ ساتھ جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ بھی خریداری کی قوت کو مسلسل کم کر رہا ہے۔