اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مانسہرہ چلاس مجوزہ موٹروے کو براہ راست چین سے منسلک کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ وفاقی وزیرمواصلات عبدالعلیم خان کی زیرصدارت مانسہرہ چلاس نئی موٹروے منصوبے پرنیشنل ہائی وے اتھارٹی کااہم اجلاس ہواجس میں منصوبے کے مختلف پہلوﺅں اور پیشرفت کاتفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایاگیاکہ نئی موٹروے مانسہرہ،کاغان،ناران،جھالکنڈ اورچلاس کو آپس میں ملائےگی جبکہ اسے براہ راست چین سے بھی منسلک کیاجائےگا،وفاقی وزیرمواصلات کاکہنا تھاکہ منصوبہ دومراحل میں مکمل کیا جائےگا،پہلے مرحلے میں مانسہرہ سے بابوسرٹاپ تک موٹروے تعمیرہوگی جبکہ دوسرےمرحلے میں اسے چلاس تک توسیع دی جائے گی۔ عبدالعلیم خان نے کہا کہ یہ موٹروے شاہراہ قراقرم کے متبادل کےطورپر ایک محفوظ اور جدید راستہ فراہم کرے گی،منصوبے کی تکمیل سے شاہراہ قراقرم کاسفرتقریبا 120کلومیٹر تک کم ہو جائےگا جس سے وقت اور ایندھن دونوں کی بچت ممکن ہوگی۔
اجلاس کوبریفنگ میں بتایاگیا کہ ایم این جےسی موٹروے کی مجموعی لمبائی 172 کلومیٹرہوگی جبکہ منصوبے میں ساڑھے 13کلومیٹرطویل بابوسر ٹنل بھی شامل ہوگی جو پاکستان کی سب سے طویل سرنگ قرار دی جا رہی ہے۔وفاقی وزیرکاکہنا تھاکہ یہ موٹروے نیٹ ورک مغربی چین کوکراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے جوڑے گا اور بحیرہ عرب تک تیز،مختصر اورموثر زمینی راستہ فراہم کرے گا۔ ان کےمطابق گوادر بندرگاہ کی پائیدار ترقی اور علاقائی تجارت کے فروغ میں یہ منصوبہ اہم کردار ادا کرے گا۔ اجلاس میں یہ بھی بتایاگیا کہ ابتدائی طور پرچارلین پرمشتمل موٹروے کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق چھ لین تک توسیع دینے کی گنجائش رکھی جائے گی,ہر 25 سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ریسٹ ایریاز قائم ہوں گے جبکہ دونوں اطراف مال بردار گاڑیوں کے لیے ٹرکنگ ٹرمینلز بھی بنائے جائیں گے۔