کراچی(نیٹ نیوز)دنیا بھر میں بدلتے موسمی رجحانات کے درمیان ایک اہم پیش گوئی سامنے آئی ہے جس کے مطابق طاقتور موسمی نظام ایل نینو مئی کے آغاز میں دوبارہ نمودار ہو سکتا ہے، جس سے عالمی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ اور شدید موسمی تبدیلیوں کا خدشہ ہے۔عالمی موسمیاتی ادارہ کی رپورٹ کے مطابق مئی سے جولائی کے دوران ایل نینو کے بننے کے امکانات مضبوط ہو چکے ہیں۔
ماہرین نے کہا کہ یہ ایک طاقتور ایل نینو ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات وقت کے ساتھ مزید شدت اختیار کریں گے۔ایل نینو دراصل بحرالکاہل میں پیدا ہونے والا ایک قدرتی موسمی چکر ہے، جو ہر دو سے سات سال کے وقفے سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس دوران وسطی اور مشرقی بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ہوا کے نظام میں تبدیلی آتی ہے اور دنیا بھر میں بارشوں اور درجہ حرارت کے پیٹرن متاثر ہوتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ابتدائی مہینوں میں موسم نسبتا متوازن تھا، لیکن اب موسمی ماڈلز ایک واضح سمت کی نشاندہی کر رہے ہیں، جس سے ایل نینو کے آغاز پر اعتماد بڑھ گیا ہے۔ اس کے اثرات صرف گرمی میں اضافے تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ مختلف خطوں میں بارشوں کے نظام میں بھی بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔
ماضی میں ایل نینو کے اثرات نہایت سنگین ثابت ہوئے ہیں، جن میں خشک سالی، سیلاب، جنگلاتی آگ اور حتی کہ بعض علاقوں میں خوراک کی قلت جیسے بحران شامل ہیں۔ 2023 سے 2024 تک جاری رہنے والے ایل نینو نے 2024 کو تاریخ کا گرم ترین سال بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔نئی پیش گوئی کے مطابق آئندہ مئی، جون اور جولائی میں خاص طور پر جنوبی و شمالی امریکا، کیریبین، یورپ اور شمالی افریقہ میں گرمی کی شدت بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ بارشوں کے حوالے سے صورتحال غیر یقینی رہے گی کچھ علاقوں میں زیادہ بارشیں اور کچھ میں خشک حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔امریکی موسمیاتی ادارے نے بھی خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران ایل نینو کے بننے کے امکانات 60 فیصد سے زائد ہیں، اور سال کے آخر تک اس کے انتہائی طاقتور ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ماہرین نے کہا کہ آنے والے ہفتوں میں مزید ڈیٹا سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہوگی، جبکہ مئی کے آخر میں نئی عالمی رپورٹ جاری کی جائے گی۔
٭٭٭٭٭٭












