لاہور(کورٹ نیوز)لاہور ہائیکورٹ نے کم عمر طالبعلم سے زیادتی کیس میں ٹیچر کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے پنجاب کے تمام سکولوں میں اساتذہ اور عملے کی مکمل ویری فکیشن کرنے اور سکولوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے 5 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا، جسٹس طارق سلیم شیخ نے تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ کیلئے اہم پالیسی رہنما اصول بھی جاری کر دیئے۔فیصلے کے مطابق ملزم شان علی عرف ذیشان کے خلاف پولیس سٹیشن صدر، ضلع رحیم یار خان میں مقدمہ درج ہے، جس میں اس پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 376(3) اور 292 کے تحت سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔12 سالہ طالبعلم نے الزام عائد کیا کہ ملزم، جو اس کا استاد تھا، نے سکول میں اس کے ساتھ بدفعلی کی جبکہ شریک ملزم نے اس واقعے کی ویڈیو بھی بنائی، بعد ازاں یہ ویڈیو شکایت کنندہ تک پہنچی اور تفتیشی افسر کے حوالے کی گئی، پراسیکیوشن نے موقف اختیار کیا کہ متاثرہ لڑکے اور دیگر گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں اور ویڈیو شواہد کی فرانزک رپورٹ بھی ملزم کے خلاف ہے، جس میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ ثابت نہیں ہوئی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ مقدمہ تاخیر سے درج کیا گیا، ویڈیو جعلی ہے اور ملزم کا کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں، لہذا اسے ضمانت دی جائے۔جسٹس طارق سلیم شیخ نے فیصلے میں قرار دیا کہ دستیاب شواہد، گواہوں کے بیانات اور ویڈیو ثبوت بادی النظر میں ملزم کو جرم سے جوڑتے ہیں، ملزم کے موبائل فون سے بڑی تعداد میں قابل اعتراض ویڈیوز کی موجودگی بھی ریکارڈ پر آئی ہے، جو کیس کو مزید مضبوط بناتی ہے، جرم سنگین نوعیت کا ہے اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کے تحت ناقابل ضمانت ہے، جبکہ ملزم کی رہائی دیگر بچوں کیلئے خطرہ ہو سکتی ہے۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کرنے کا حکم جاری کر دیا، عدالت نے تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے اہم آبزرویشنز دیتے ہوئے حکومت پنجاب کو ہدایت کی چائلڈ پروٹیکشن ٹریننگ لازمی قرار دی جائے، سکولوں میں شکایات کے خفیہ نظام قائم کئے جائیں، سکولوں میں باقاعدہ نگرانی اور آڈٹ کا نظام بنایا جائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ پنجاب کے تمام سکولوں میں اساتذہ اور عملے کی مکمل ویری فکیشن کرنے اور سکولوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے حکم دیا کہ فیصلے کی نقل وزارت قانون، چیف سیکرٹری پنجاب، آئی جی پنجاب اور سیکرٹری سکول ایجوکیشن سمیت متعلقہ حکام کو بھجوا کر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔