لاہور( نمائندہ خصوصی) سابق وزیر داخلہ و مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ صدر مملکت نے ٹوئٹ کر کے ریاست کو شرمندہ کرنے والا کام کیا ہے ،
اس اقدام سے نہ صرف اس منصب کی توہین کی گئی ہے بلکہ ریاست کو ایک مشکل اور آئینی بحران میں مبتلا کردیا گیا ہے،صدر کو ٹوئٹ کرنے کی بجائے اس کی انکوائری کراکے ذمہ داری فکس کرنی چاہیے تھی ، صدر سے کوئی زبردستی دستخط کر اسکتا ہے اور نہ جعلی دستخط ہو سکتے ہیں ،
بلوں کو مقررہ وقت پر واپس نہیں کیا گیا اور جب انہوںنے ایکٹ کا درجہ اختیار کر لیا ہے تو اس کے پیچھے چھپنا چاہتے ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ صدر مملکت جس منصب پر فائز ہیں انہوں نے اس کی توہین کی ہے ، انہوں نے ایک ایسا عمل کیا ہے جو ان کے منصب اور رتبے سے میل نہیں کھاتا ، صدر کو چاہیے تھااگر ایسا ہی ہے جیسا وہ کہہ رہے ہیں تو پھر اس کی انکوائری کا حکم دیتے ،ذمہ داری کا تعین کرتے کس نے ایسا کیا ہے اور اس کے خلاف ایک لیگل پروسیڈنگ آغاز ہوتا .
اور وہ معاملہ میڈیا کی زینت بنتا، ان سے متعلق تو پہلے ہی کہا جاتا رہا ہے کہ ایک چھوٹے بندے کو عہدے پر اوربہت بڑے آفس میں بٹھا دیا گیا ہے ، اس اقدام سے اس منصب کی توہین کی گئی ہے بلکہ ریاست کو ایک مشکل اور آئینی بحران میں مبتلا کردیا گیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ صدر جو بات کر رہے ہیں یہ بات کیسے ثابت ہو گی ، یہ بات تو کسی انکوائری میں ثابت ہو گی اور کس پر ذمہ داری فکس ہو گی کیا صدر کے ٹوئٹ سے یہ معاملہ ثابت ہو جائے گا ۔اس میں تین اشخاص ہوتے ہیں جن میں ایک صدر مملکت ، سیکرٹری ٹو پریذیڈنٹ اور ایم ایس ٹو پریذیڈنٹ ،اس کے علاوہ چوتھا آدمی سے کون ہے ، کون غلط ہے کس نے زیادتی کی ہے کون جھوٹ بول رہاہے اس کا تعین کیا ٹوئٹ سے ہو جائے گا ،یہ تو ریاست کو شرمند ہ کرنے والا کام کیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ دستخطوں کے لئے جو پروسیجر ہے ایسا ہو نہیں سکتا ، جتنا میں آگاہ ہوں میںبالکل سمجھ ایسا ہو سکتاہے ،ایسا کبھی ہو ا بھی نہیں اور ہو بھی نہیں سکتا۔ اگر ایسا ہو گیا ہے کہ کسی نے پوچھے بغیر سمری کی توثیق کر دی ہے تو اس کا کیا یہ طریقہ ہے کہ ٹوئٹ کرنا ہے ،صدر مملکت کا عہدہ اتنا اہم اورحساس معاملہ ہے ، اس سے پورے ملک میں کہرام مچے گا ،پوری دنیا میں ملک کی بدنامی ہوگی ، یہ ٹوئٹ کے ذریعے اچھالنے والا تھا یا اس کی انکوائری کرتے اورذمہ دارکے خلاف لیگل پراسس شروع ہوتا تو پھر میڈیا کی خبر بننے دیتے ۔ انہوںنے کہا کہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی صدر سے زبردستی دستخط کر اسکتا ہے ، جعلی دستخط ہو نہیں سکتے ۔
پہلے یہ بھی تصدیق کر لینی چاہیے کہیں یہ نہ ہو کہ صدر کی ٹوئٹ بھی غلط ہے ۔انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے جو معافی والی بات کی ہے انہیں نہ ملک کا سسٹم معاف کرے گا نہ قوم معاف کرے گی بلکہ مجھے یقین ہے اللہ بھی انہیں معاف نہیں کرے گا۔ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ صدر مملکت کہہ رہے ہیں کہ بلوں کو مقررہ وقت پرواپس کرنا ہے ،انہیں مقررہ وقت پر واپس نہیں کیا گیا جب انہوںنے ایکٹ کا درجہ اختیار کر لیا ہے اور اس کے حوالے سے آئین و قانون میں درج ہے تو اب اس کے پیچھے چھپنا چاہتے ہیں ۔
انہیں مقررہ وقت پر واپس کرانا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ بتایا جائے صدر مملکت کے عملے کا انتخابات میں نے کسی اور نے کیا ہے ، اگر ان کے عملے میں ایسا کوئی تھا تو اس کو نکال باہر کر تے۔ صدر مملکت یا وزیر اعظم کے عملے میں انتہائی منجھے ہوئے افسران ہوتے ہیں ، یہ خاص اعتماد کے لوگ ہوتے ہیں ۔ صدر مملکت کو ٹوئٹ نہیں کرنا چاہیے تھا بلکہ اس کی انکوائری کرنی چاہیے تھی اور ذمہ داری فکس کرنے کے بعد لیگل پراسس شروع ہوتا اور قانون اپنا راستہ لیتا ۔