اسلام آباد (کورٹ نیوز)سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سزا یافتہ قیدیوں کی اپیلوں پر سماعت کرتے ہوئے تمام مقدمات نمٹا دئیے۔چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی اور جسٹس گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔دورانِ سماعت ایڈووکیٹ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احمد رضا گیلانی عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ سزا یافتہ قیدی عبدالحکیم، محسن علی اور اللہ دتہ جیل سے رہا ہو چکے ہیں، سزا یافتہ قیدی شاہد خان بھی جیل سے رہائی پا چکے ہیں جبکہ جاوید اقبال انتقال کر چکے ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل ذوالفقار احمد کو طلب کیا، جو بعد ازاں عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس یحیی آفریدی نے استفسار کیا کہ آیا ان مقدمات سے متعلق کسی کی ضمانت قبل از گرفتاری یا ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست زیرِ التوا ہے یا نہیں۔ اس پر ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے عدالت کو بتایا کہ ایسی کوئی درخواست زیرِ التوا نہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے بتایا گیا کہ عیدالاضحی سے قبل آج آخری ورکنگ ڈے پر ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کو کیس فکسیشن پالیسی سے متعلق وضاحت کے لیے طلب کیا گیا تھا۔
عدالت کے مطابق دریافت کیا گیا کہ ضمانت قبل از گرفتاری یا بعد از گرفتاری کی اپیلیں زیرِ سماعت ہیں یا نہیں، جس کے جواب میں بتایا گیا کہ نہ تو ایسی کوئی اپیل زیرِ التوا ہے اور نہ ہی اسلام آباد رجسٹری میں اس نوعیت کی کوئی درخواست موجود ہے۔بعد ازاں تمام تفصیلات سننے کے بعد سپریم کورٹ نے متعلقہ مقدمات نمٹا دئیے۔