تہران ، برگن سٹاک (انٹرنیشنل نیوز ) سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مابین جاری تکنیکی مذاکرات میں فریقین نے جوہری مسائل اور پابندیوں سے نمٹنے کےلئے چار ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ایرانی سرکاری خبر رساں ا دارے ارنا کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات اختتام پذیرہو گئے جس میں جوہری امور اور پابندیوں سے متعلق آئندہ مرحلے کے لیے 4 ورکنگ گروپس تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق 4 ورکنگ گروپس قائم کیے جائیں گے جن میں پابندیوں کے خاتمے، جوہری امور، تعمیر نو اور اقتصادی ترقی، اور نگرانی و عملدرآمد کے شعبے شامل ہوں گے۔ ارنا نے ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ مذاکرات کاروں نے چار ورکنگ گروپس بنانے کا فیصلہ کیا جس میں پابندیوں میں نرمی، جوہری معاملات، اقتصادی تعمیر نو اور مانیٹرنگ اور نفاذ شامل ہیں۔
کاظم غریب آبادی کے مطابق یہ ورکنگ گروپس معاہدے کی تکنیکی تفصیلات پر عملدرآمد اور مختلف شعبوں میں جاری مذاکرات کے ذمہ دار ہوں گے۔ایران کے نیم سرکاری میڈیا ادارے تسنیم کے مطابق نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا ہے کہ ان ورکنگ گروپس کے علاوہ دو سیل بھی بنائیں جائیں گے۔ ان میں سے ایک سیل مفاہمتی یادداشت کے رکن ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی بحفاظت نقل و حمل کے حوالے سے کام کرے گا جبکہ لبنان کے حوالے سے ایک علیحدہ سیل رکن ممالک، پاکستان اور قطر کے ساتھ تشکیل دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا تھا کہ نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی ایرانی تکنیکی وفد کی سربراہی کریں گے۔ اتوار کے روز اعلی سطحی مذاکرات کے بعد اعلی ایرانی اور امریکی حکام سوئٹزرلینڈ سے روانہ ہو گئے تھے لیکن دونوں ملکوں کے وفود نے تکنیکی سطح پر بات چیت جاری رکھی۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی موثریت طے شدہ ذمہ داریوں پر مکمل اور درست انداز میں عمل کیے جانے پر منحصر ہے۔ایرانی صدر کاکہنا تھا کہ اس عمل میں پیش رفت کا جائزہ قبول کی گئی ذمہ داریوں پر عملی پابندی کی بنیاد پر لیا جائے گا، متفقہ متن سے ہٹ کر دئیے جانے والے بیانات مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت نہیں ہوتے۔دریں اثنا ا یرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی آبنائے ہرمز کے معاملے پر بات چیت کے لیے عمان پہنچ گئے ،ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے تصدیق کی ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا کے لیے دستخط کو حتمی شکل دے دی گئی۔
ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی آبنائے ہرمز کے معاملے پر بات چیت کے لیے عمان پہنچ گئے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت پر رابطے کا نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔اقدام کا مقصدکسی بھی قسم کے تصادم یا کشیدگی سے بچناہے۔انہوں نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا کے لیے دستخط کو حتمی شکل دے دی گئی۔
اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ مذاکرات کی بنیاد پر لبنان کی علاقائی سالمیت و خودمختاری کی ضمانت دینے پر اتفاق کیا ہے۔واضح رہے کہ امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندی اٹھالی ہے جس کے بعد2 ماہ تک ایران امریکا سمیت دنیا بھر میں اپنی پیٹرولیم مصنوعات فروخت کر سکے گا۔ ایران نے پابندیاں اٹھنے اور کچھ ایرانی اثاثے بحال ہونے کی تصدیق کر دی۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا ، کیوبا اور یوکرین پر ایرانی تیل خریداری پر پابندی تاحال برقرار ہے۔