کوئٹہ (نیوز ڈیسک) وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت منعقدہ اعلی سطح کے اجلاس میں صوبے میں تعلیمی ترقی، صحت اور امن و امان سے متعلق اہم اصلاحاتی اقدامات کی منظوری دے دی گئی ہے۔اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ان تینوں شعبوں کی بہتری کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے پر اتفاق کیا گیا جبکہ شرح خواندگی میں اضافے اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے جامع پالیسی اصلاحات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مجوزہ تعلیمی پالیسی کے تحت صوبے میں پرائمری سطح پر اسکول یونیفارم کی شرط ختم کرنے اور پرائمری اسکولوں کو جینڈر فری ڈکلیئر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے بعد بچے اور بچیاں بنیادی تعلیم ایک ہی اسکول میں حاصل کر سکیں گے۔اس پالیسی کو منظوری کے لیے بلوچستان کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ صوبے کے 900 اسکولوں میں ڈبل شفٹ تدریسی عمل شروع کرنے، سرکاری اسکولوں میں منظور شدہ یکساں ریڈنگ اینڈ رائٹنگ مٹیریل متعارف کرانے اور این سی ایچ ڈی کے اساتذہ کی فکسڈ تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے بریفنگ میں بتایا کہ آئندہ سال تک صوبے کے 3 ہزار سنگل روم اسکولوں میں اضافی کمرے تعمیر کیے جائیں گے۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے کے تمام فعال سرکاری اسکولوں میں ٹاٹ کلچر کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے ہر اسکول کو فوری طور پر ڈیسک فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بدل چکی ہے مگر بلوچستان میں اب بھی بچہ ٹاٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتا ہے جو کہ ایک انتظامی غفلت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اب کوئی بچہ ٹاٹ پر نہیں بیٹھے گا اور ہر بچے کو ڈیسک پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے کا حق ملے گا کیونکہ بچوں میں خود اعتمادی اور عزت نفس کو پروان چڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔
وزیراعلی نے خبردار کیا کہ وہ دور دراز اسکولوں کی صورتحال کا خود جائزہ لیں گے اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے کسی بھی پہاڑی علاقے یا چٹیل میدان میں اچانک اتر کر اسکولوں کا معائنہ کریں گے۔ مقررہ مدت کے بعد اگر کوئی بچہ ٹاٹ پر بیٹھا نظر آیا تو متعلقہ حکام کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔