مولانا فضل الرحمن

بدامنی کے ماحول میں عوامی اجتماعات امن پسندوں کو حوصلہ دیتے ہیں، مولانا فضل الرحمن

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ بدامنی کے ماحول میں عوامی اجتماعات سے امن کو فروغ ملتا ہے اور بدامنی پھیلانے والوں کا حوصلہ ٹوٹتا ہے اور امن پسندوں کو حوصلہ ملتا ہے اور یہ دین اسلام اور وطن کی بہت بڑی خدمت ہے، اس وقت یہ خدمت جمعیت علماء اسلام کے علاوہ کوئی جماعت انجام نہیں دے رہی، حکومتی جماعتیں عوام میں جانے کا حوصلہ نہیں رکھتیں۔

وہ گزشتہ روز گیارہ جولائی کو پھول نگر قصور میں منعقدہ تحفظ مدارس دینیہ و عوامی حقوق کانفرنس کی تیاریوں کے حوالے سے مرکزی سب آفس جامع مسجد فاروق اعظم آئی نائن فور میں راولپنڈی ڈویژن کے اضلاع کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے، انہوں نے کہا کہ انسان روئے زمین پر اللہ تعالی کا خلیفہ ہے جبکہ ملائکہ میں نیابت کی استعداد ہی نہیں ہے جنات میں استعداد ہے تاہم انہوں نے اس صلاحیت کو استعمال نہیں کیا۔

انہوںنے کہاکہ علم نفع کا باعث بھی بنتا ہے اور نقصان کا سبب بھی بنتا ہے کبھی یہی علم ہدایت کا ذریعہ بنتا ہے کبھی گمراہی کا سبب بن جاتا ہے، اس موقع پر جے یو آئی پنجاب کے سیکرٹری جنرل حافظ نصیر احمد احرار، مفتی ابرار احمد، صوبائی ترجمان حافظ غضنفر عزیز، صوبائی ناظمین نور خان ہانس مولانا سعید الرحمان سرور، مفتی اویس عزیز، حافظ محمد تنویر گجر، ڈاکٹر ضیاء الرحمان امازئی، مفتی محمد زاہد شاہ، مفتی خالد شریف، قاری محمد ابراہیم، مولانا مقصود احمد، مولانا خالقداد عثمان، مولانا عبدالسلام نقشبندی، حافظ ندیم اخلاص، مفتی محمد عبداللہ، قاری افتخار حسین، ارشد عباسی، مولانا حنیف ندیم، چوہدری عبدالجبار، حافظ ضیاء اللہ خان، حافظ یاسر زمان و دیگر بھی شریک تھے، مولانا فضل الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ شریعت کا علم انسان کی صحیح سمت کا تعین کرتا ہے اسے جائز و ناجائز بتاتا ہے

اسے صحیح اور غلط میں فرق بتاتا ہے جبکہ باقی علوم انسان کی مادی ضروریات کی تکمیل کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ انسان میں متضاد صفات پیدا کئے گئے ہیں اس میں ملکی اور بہیمی دونوں صفات موجود ہیں۔ اور انہی متضاد صفات سے انسانی معاشرے میں ترقی پیدا ہوتی ہے، انسان اس دنیا میں ضروریات لے کر آیا ہے اور انسان معاشرے کی انہی ضروریات کی تکمیل کے لیے وسائل بروئے کار لاتا ہے اور یہی سیاست ہے وسائل کی ضروریات کے لئے تنظیم کا نام ہی سیاست ہے انہوں نے کہا سیاسی کام اجتماعی کام ہے جبکہ باقی تمام کام شخصی زندگی کے ہیں ۔

اپنا تبصرہ لکھیں