شہبازشریف

بھارت خفیہ کارروائیوں، پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے، شہبازشریف

کراچی(نیوز ڈیسک )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کےلئے خفیہ ہتھکنڈوں اور پراکسی عناصر کے استعمال میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے، ہماری بہادر مسلح افواج مغربی سرحدوں سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں، پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ور دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کےلئے پرعزم ہے،

پاکستان کشمیریوں، غزہ کے عوام اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور انصاف کی حمایت کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے، برادر اور دوست ممالک کے تعاون سے پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تاریخی دستخط ہوئے،ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ برادرانہ تعلقات ہیں اور یہ پاکستان کے اہم کردار کا اعتراف تھا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے کراچی میں پاکستان نیول اکیڈمی میں پاسنگ آﺅ ٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔پاکستان نیول اکیڈمی پی این ایس رہبر میں شاندار پاسنگ آﺅٹ پریڈ ہوئی جس میں وزیراعظم شہبازشریف نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی نوعیت کے پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز سے نبرد آزما ہے، گزشتہ سال مئی کے تنازع میں شرمناک شکست کے بعد مشرقی ہمسایہ ملک پاکستان کے مشکل سے حاصل کیے گئے امن اور استحکام کو سبوتاژ کرنے کے لئے خفیہ کارروائیوں اور پراکسی عناصر کا سہارا لے رہا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ دوسری جانب پاکستان کی بہادر مسلح افواج مغربی سرحدوں سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں، پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کےلئے پرعزم ہے، جبکہ پاکستان تمام تنازعات کے حل کے لیے امن، مذاکرات اور سفارت کاری کی پالیسی پر بھی قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں، غزہ کے عوام اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور انصاف کی حمایت کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ان کا خطاب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا غیر معمولی عالمی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے، جن کے اثرات انسانی زندگی پر گہرے انداز میں مرتب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری میں ایک امن پسند ملک کے طور پر اپنی شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے، برادر اور دوست ممالک کے تعاون سے پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تاریخی دستخط ہوئے، جن پر بطور ثالث انہیں بھی دستخط کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔وزیراعظم نے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تمام فریقوں کو امن اور ہم آہنگی کی راہ پر لانے کے لیے انتھک کوششیں کیں۔

انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے حالیہ دور پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور ایران کے مضبوط برادرانہ تعلقات کا مظہر ہونے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن کے فروغ کےلئے پاکستان کے اہم کردار کا اعتراف بھی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال نے عالمی معیشت اور بین الاقوامی سپلائی چینز کے لئے سمندری سلامتی کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے، آزادانہ بحری آمدورفت اور جہازرانی کی آزادی اب محض سہولت نہیں بلکہ پوری دنیا کی ضرورت بن چکی ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پاکستان بحریہ کو مزید مضبوط، موثر اور جدید دفاعی قوت بنانے کےلئے مکمل طور پر پرعزم ہے تاکہ وہ نہ صرف قومی دفاع کو یقینی بنا سکے بلکہ وسیع بحری خطے میں استحکام کے لئے بھی موثر کردار ادا کرے۔اس س موقع پر پاس آﺅ ٹ ہونے والے کیڈٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ سخت تربیت مکمل کرنے کے بعد پاکستان بحریہ میں بطور افسر اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں، انہوں نے تقریب میں ترکیہ، بحرین، بنگلہ دیش، عراق، سری لنکا اور جبوتی سے تعلق رکھنے والے نوجوان افسران کی موجودگی پر بھی خوشی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ نیول اکیڈمی میں حاصل کی گئی تربیت، علم اور پیشہ ورانہ مہارت ان افسران کے کیریئر میں نہایت مفید ثابت ہوگی اور وہ اپنی اپنی بحری افواج کی صلاحیتوں میں اہم کردار ادا کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ آج کمیشن حاصل کرنے والے افسران صرف علم اور مہارت ہی نہیں بلکہ اعتماد، حوصلے اور جنگی جذبے سے بھی لیس ہو کر نکل رہے ہیں، جو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ افسران ایسے دور میں پاکستان بحریہ کا حصہ بن رہے ہیں جب سمندری شعبہ تیزی سے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی ) اور بغیر پائلٹ نظاموں کی طرف بڑھ رہا ہے، انہوں نے نئے افسران پر زور دیا کہ وہ عزم، جرات، نظم و ضبط، دیانت داری اور وفاداری جیسی اقدار کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔وزیراعظم نے کہا کہ آج ان کے کندھوں پر سجنے والا رینک ایک بڑی ذمہ داری کی علامت ہے، پرسکون سمندر کبھی ملاح کی آزمائش نہیں لیتا اور نہ ہی موافق ہوائیں ایک کپتان کی صلاحیت کا معیار ہوتی ہیں، بلکہ طوفانی سمندر اور تیز ہوائیں ہی انسان کے حوصلے اور کردار کا اصل امتحان ہوتی ہیں۔پاکستان نیول اکیڈمی میں125مڈ شپ مین اور33ویں شارٹ سروس کورس کی پاسنگ آﺅ ٹ کی پروقار تقریب میں پاس آﺅ ٹ ہونےوالوں میں بحرین،عراق اور جبوتی کے مڈشپ مین بھی شامل ہیں۔

وزیر اعظم نے ترکیہ، بحرین، بنگلہ دیش، عراق، سری لنکا اور جبوتی سے تعلق رکھنے والے نوجوان افسران کی موجودگی پر بھی خوشی کا اظہار کیا۔شارٹ سروس کمیشن کورس کی آفیسرکیڈٹ الویرہ حمزہ کو کمانڈنٹ گولڈمیڈل سےنوازاگیا، آفیسر کیڈٹ حافظ محمد احمد منور کو چیف آف ڈیفنس فورسز گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔اکیڈمی ڈرک مڈشپ مین کا اعزاز ہادی عباس خان کو دیا گیا، مڈشپ مین عمرمختار کو بہترین کارکردگی پر اعزازی شمشیر سے نوازا گیا۔

تقریب میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ، گورنر سندھ نہال ہاشمی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ، پاک بحریہ کے اعلی حکام، سیاسی و عسکری شخصیات اور کیڈٹس کے اہلخانہ بھی شریک ہوئے۔۔قبل ازیں وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف ہفتہ کی صبح کراچی پہنچے جہاں سندھ کے گورنر نہال ہاشمی اور وزیراعلی مراد علی شاہ نے ان کا استقبال کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں