یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ نے ایک نیا خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ روسی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ کرسک کے علاقے میں یوکرین کے ایک حملے میں روسی بحریہ کے ڈپٹی چیف میجر جنرل میخائل گودکوف سمیت 11 فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے۔
میخائل گودکوف، جنہیں مارچ 2025 میں صدر ولادیمیر پیوٹن نے روسی بحریہ کے زمینی و ساحلی دستوں کا نائب سربراہ مقرر کیا تھا، جنگی محاذ پر انتہائی متحرک سمجھے جاتے تھے۔ وہ بدنام زمانہ 155ویں بریگیڈ کی قیادت کر رہے تھے، جس پر یوکرینی اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے بوچا، ایرپین اور ہوستومیل میں جنگی جرائم اور شہریوں کے قتل جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
یوکرین کی بارڈر گارڈ سروس کے مطابق، 155ویں بریگیڈ نے یوکرینی جنگی قیدیوں کو بھی قتل کیا تھا۔ تاہم روس ان الزامات کو بارہا مسترد کر چکا ہے۔
روسی گورنر اولیگ کوژیماکو نے گودکوف کو "بہادر سپاہی” قرار دیا اور کہا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قومی خدمت کے دوران شہید ہوئے۔ روس نے حملے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، اور یوکرینی حکام کی جانب سے بھی اس واقعے پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔









