غزہ میں بڑھتی ہوئی تباہی اور ہلاکتوں کے بعد اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے (OHCHR) کے سیکڑوں ملازمین نے ادارے کے سربراہ وولکر ٹرک پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی کارروائیوں کو باضابطہ طور پر "نسل کُشی” قرار دیں۔
رائٹرز کے مطابق 500 سے زائد اہلکاروں نے ایک خط میں نشاندہی کی ہے کہ غزہ میں انسانی جانوں کا اتلاف، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور شہریوں کو خوراک و علاج سے محروم کرنا نسل کُشی کی تمام قانونی تعریفوں پر پورا اترتا ہے۔ ملازمین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یو این کھلے الفاظ میں یہ مؤقف اختیار نہیں کرتا تو اس کی ساکھ اور عالمی انسانی حقوق کا پورا نظام متاثر ہوگا۔
خط میں روانڈا میں 1994 کی نسل کُشی کے وقت اقوام متحدہ کی خاموشی کو بھی یاد دلایا گیا ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک تقریباً 63 ہزار فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے محروم ہو گئے ہیں۔ قحط اور طبی سہولتوں کی شدید کمی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے حملے حماس کے عسکری ڈھانچے پر کیے جا رہے ہیں۔









