جیکب آباد(ہیلتھ نیوز) جیکب آباد میں ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ، شدید گرمی، نمک کا زیادہ استعمال اور ذہنی دباو بڑی وجوہات قرار۔ تفصیلات کے مطابق دنیا کے گرم ترین شہروں میں شمار ہونے والے جیکب آباد میں ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے، سرکاری و نجی اسپتالوں میں روزانہ بڑی تعداد میں ایسے مریض علاج کے لیے پہنچ رہے ہیں جن کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک بلند ریکارڈ کیا جارہا ہے، جس پر طبی ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام کو فوری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے،
معالجین کے مطابق حالیہ دنوں میں ایسے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جن کا بلڈ پریشر 150 سے 160 جبکہ نچلا پریشر 90 سے 110 کے درمیان ریکارڈ ہورہا ہے جو طبی اعتبار سے خطرناک صورتحال سمجھی جاتی ہے، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں دل کے امراض، فالج اور گردوں کی پیچیدگیوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ سکتا ہے، طبی ماہرین کے مطابق جیکب آباد کی شدید گرمی، جسم میں پانی کی کمی، خوراک میں نمک کا بے جا استعمال، چکنائی والی غذائیں، صاف پانی کی عدم دستیابی، ذہنی دباو، نیند کی کمی اور جسمانی سرگرمیوں کا فقدان اس مرض کے پھیلاو کی اہم وجوہات ہیں،
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل گرمی کی شدت جسم کے قدرتی نظام پر دباو بڑھا دیتی ہے جبکہ پانی کی کمی خون کی روانی اور بلڈ پریشر کو متاثر کرتی ہے، ڈاکٹروں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر بلڈ پریشر مسلسل بڑھا رہے تو اسے معمولی نہ سمجھا جائے بلکہ فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے، نمک کا استعمال کم کیا جائے، روزانہ مناسب مقدار میں پانی پیا جائے، باقاعدگی سے بلڈ پریشر چیک کیا جائے اور صحت مند طرز زندگی اپنایا جائے، شہریوں نے مطالبہ کیا کہ محکمہ صحت جیکب آباد میں ہائی بلڈ پریشر سے آگاہی مہم شروع کرے، مفت اسکریننگ کیمپ لگائے جائیں اور بنیادی مراکز صحت میں ضروری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔