اسلام آباد(ہیلتھ نیوز )وفاقی دارلحکومت کے پمز اسپتال میں جدید فیراپلس مشین فعال کر دی گئی ،دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں کا مفت علاج کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے پمز کارڈک سینٹر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان، کشمیر اور خیبر پختونخوا سے روزانہ 10 ہزار مریض پمز آتے ہیں۔
پرائمری ہیلتھ سسٹم کا مضبوط نہ ہونا ہماری کوتاہی ہے،پمز پر مریضوں کا لوڈ کم کرنا چاہتے ہیں،اسلام آباد کے 28 بنیادی صحت مراکز غیر فعال ہیں۔پمز اسپتال میں جدید فیراپلس مشین فعال کر دی گئی ہے ، دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں کا مفت علاج کیا جائے گا۔ملک کی آبادی ساڑھے 26 کروڑ ہو چکی ہے،ہر سال آبادی میں 67 لاکھ کا اضافہ ہو رہا ہے،بڑھتی آبادی کو روکنے کے لیے پاکستانیوں کو وقفے کی ترغیب دینا ہوگی۔
انہوں نے کہا ہر گلی کے کونے پر ہسپتال بنا لیں مریضوں کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے،مریض بننے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، کبھی بیڈ اور ہسپتال پورے نہیں کر سکتے۔ہم ہر طرح بیماری میں نمبر ون ہیں ہر تیسرا آدمی شوگر کا مریض ہے،مریض بننے سے بچانے کا کام وزیر صحت کانہیں،68 فیصد بیماریاں صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہوتی ہیں،یہ صاف پانی وزیر صحت نے دینا ہے؟ کونسلر نے دینا ہے۔بلدیاتی نظام پر بات کریں تو ناراض ہو جاتے ہیں،وفاق سے وسائل لے کر پانچ وزیر اعلی کو دے دیئے گئے،وزرا اعلی سے نیچے فنڈز کیسے جانے ہیں کوئی نظام ہی نہیں ہے۔
ہم اٹھارویں ترمیم کے خلاف نہیں ہیں نافذ نہ ہونے پر ناراض ہیں۔ہم چاہتے ہیں اٹھارویں ترمیم مکمل طور پر نافذ ہو،جب فنڈز محلے میں جائیں گے تو صاف پانی ملے گا لوگ بیمار نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا بی ایچ یو اور سکولز چلانا یونین کونسلز کا کام ہے،تیرہ طرح کی ویکسین لگاتے ہیں، لوگ انکار کر رہے ہیں،ہماری جموریت ہماری ناک کے نیچے رہتی ہے،جمہوریت کی پہلی سیڑھی لوکل گورنمنٹ ہے،دس دس سال لوکل گورنمنٹ کا انتخابات نہیں کرواتے،یہ نظام نہیں چل سکتا۔