لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے صوبائی قرضوں سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کے پاس اس وقت ایک ٹریلین روپے سے زائد سرپلس موجود ہے اور کسی قسم کے قرض کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ بعض عناصر جان بوجھ کر عوام کو گمراہ کرنے کے لیے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ پنجاب نے اسٹیٹ بینک سے قرض لیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے اپنی سرمایہ کاری فیڈرل گورنمنٹ کے ٹی بلز میں کی ہے تاکہ منافع حاصل کیا جا سکے۔
عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ پنجاب نے نہ صرف اسٹیٹ بینک سے کوئی قرض نہیں لیا بلکہ 2019 کے بعد اسٹیٹ بینک ایکٹ کے تحت کسی بھی حکومت کو براہِ راست قرض لینے کی اجازت ہی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی مالی حالت مستحکم ہے، اور جھوٹی خبریں پھیلانے والے عناصر کو اپنی غلط رپورٹنگ پر معذرت کرنی چاہیے۔ بصورت دیگر حکومت قانونی کارروائی کرنے کا حق رکھتی ہے۔









