ملتان (کامرس ڈیسک)پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے)نے کپاس کی فیکٹریوں میں آمد کے اعدادو شمار جاری کر دیئے ہیں
جسکے مطابق 15اگست2023تک ملک کی جننگ فیکٹریوں میں 21لاکھ 15ہزار433گانٹھ کپاس آئی۔صوبہ پنجاب کی فیکٹریوں میں 6لاکھ 36ہزار684گانٹھ کپاس آئی ہے۔
صوبہ سندھ کی فیکٹریوں میں 14لاکھ 78 ہزار 749گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی ہے۔ 15اگست2023تک فیکٹریوں میں آنے والی کپاس سے19 لاکھ76ہزار353گانٹھ روئی تیار کی گئی۔ ملک میں 457جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہیں۔ ایکسپورٹرز نے رواں سیزن میں 66ہزار 86گانٹھ روئی خریدکی ہے جبکہ ٹیکسٹائل سیکٹرنے 18لاکھ 60ہزار300گانٹھ روئی خرید کی ہے۔
ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان(TCP)نے کاٹن سیزن 2023ـ24میں خریداری نہیں کی ہے۔ صوبہ پنجاب میں 230جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہیں او ر5لاکھ89ہزار649گانٹھ روئی تیار کی گئی ہے۔ ضلع ملتان میں 15اگست2023تک9ہزار433گانٹھ کپاس،ضلع لودھراں میں 20ہزار534گانٹھ کپاس،ضلع خانیوال میں 1لاکھ3ہزار 924گانٹھ کپاس، ضلع مظفر گڑھ میں 15 ہزار132گانٹھ کپاس،ضلع ڈیرہ غازی خان میں 32ہزار894گانٹھ کپاس، ضلع راجن پور میں 8ہزار100گانٹھ کپاس ضلع لیہ میں 61 ہزار140گانٹھ کپاس،ضلع وہاڑی میں 96 ہزار 430گانٹھ کپاس، ضلع ساہیوال میں 69ہزار784گانٹھ کپاس،
ضلع رحیم یار خان میں 23ہزار607گانٹھ کپاس،ضلع بہاولپور میں 69ہزار830گانٹھ کپاس، ضلع بہاولنگر میں 53ہزار709گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی ہے۔ ضلع سانگھڑمیں 9لاکھ80ہزار 912گانٹھ کپاس، ضلع میر پور خاص میں 73 ہزار 700 گانٹھ کپاس، ضلع نواب شاہ میں 99ہزار30گانٹھ کپاس، ضلع نو شہرو فیروز میں 54 ہزار907 گانٹھ کپاس، ضلع خیر پور میں 27ہزار600گانٹھ کپاس،
ضلع جام شورومیں 41 ہزار400گانٹھ کپاس اور ضلع حیدرآباد میں 1 لاکھ 2ہزار600گانٹھ کپاس اور صوبہ بلوچستان میں 52ہزار750 گانٹھ فیکٹریوں میں آئی ہے۔ غیر فروخت شدہ سٹاک1 لاکھ 89 ہزار47گانٹھ کپاس اور روئی موجود ہے۔









