لاہور(نیوز ڈیسک)پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 147 کے تحت ایڈوانس ٹیکس کی وصولی کے معاملے پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی مبینہ غیر قانونی کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جبری ریکوری فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے صدر شیخ احسان الحق، جنرل سیکرٹری طاہر محمود بٹ، سینئر نائب صدر شیخ یاسین، نائب صدور شہباز قادر، رانا منظور حسین، عامر حنیف کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر کو ارسال کیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ مختلف ٹیکس بارز سے موصول ہونے والی شکایات کے مطابق ایف بی آر کی فیلڈ فارمیشنز ٹیکس سال 2026 کی آخری سہ ماہی کے ایڈوانس ٹیکس کی وصولی کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس کی واضح قانونی شقوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بینک اکائونٹس منجمد کرنے، رقوم کی جبری کٹوتی اور ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے جیسے اقدامات کر رہی ہیں۔
انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 147(6) کے تحت ٹیکس دہندگان کو یہ قانونی حق حاصل ہے کہ اگر ان کی متوقع ٹیکس ذمہ داری ایڈوانس ٹیکس سے کم ہو تو وہ آخری قسط کی مقررہ تاریخ سے قبل نظرثانی شدہ تخمینہ جمع کرا سکتے ہیں۔ تاہم متعدد کیسز میں آئی آر آئی ایس (آئرس )پورٹل پر جمع کرائے گئے تخمینوں کو زیر غور لائے بغیر یکطرفہ احکامات جاری کیے جا رہے ہیں جس کے بعد جبری ریکوری کا عمل شروع کر دیا جاتا ہے۔
یہ طرزِ عمل نہ صرف قانون کی صریحاًخلاف ورزی ہے بلکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 4 اور آرٹیکل 10-اے کے تحت حاصل منصفانہ سماعت اور قانونی تحفظ کے بنیادی حقوق سے بھی متصادم ہے۔ ایسے اقدامات سے ٹیکس دہندگان کو مالی و کاروباری نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس انتظامیہ کے درمیان اعتماد بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
ایسوسی ایشن نے چیئرمین ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر کی تمام فیلڈ فارمیشنز کو فوری ہدایات جاری کی جائیں تاکہ سیکشن 147(6) کے تحت جمع کرائے گئے نظرثانی شدہ تخمینوں پر قانون کے مطابق فیصلہ کیے بغیر کسی بھی ٹیکس دہندہ کے خلاف جبری ریکوری، بینک اکائونٹس کی قرقی یا رقوم کی کٹوتی جیسے اقدامات نہ کیے جائیں اور ٹیکس دہندگان کے آئینی و قانونی حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے۔