لاہور (نمائندہ خصوٰصی) وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان بحران سے باہر نکل آیا اور اب محفوظ ہاتھوں میں ہے ، آئندہ دنوں میں بہتری نظر آئے گی ،
ایک سیاسی رہنما آزادی مانگتا ہے ہم تو چودہ اگست کو آزاد ہوگئے تھے اب کون سی آزادی مانگتے ہیں، ہم وہاں کھڑے ہیں جہاں بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے،ہمیں اس وقت ووکیشنل ایجو کیشن کی ضرورت ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب یونیورسٹی وحید شہید ہال میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے زیر اہتمام پرائم منسٹرز الیکٹرک وہیل چیئر سکیم کے تحت الیکٹرک چیئرتقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
اس موقع پر 637بچوں کو الیکٹرک وہیل چیئر دی گئیں۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان دوبارہ درست سمت میں جا رہا ہے اور چیزیں بہت بہتر ہوئی ہیں، مہنگائی ہے لیکن آئندہ دنوں میں بہتری نظر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان واحد ڈس ایبل ہے جسے گولی لگی مگر وہ ایک سال سے ٹھیک نہیں ہو رہا، عمران خان اب سر پر کالی بالٹی لے کر گھومتا ہے ۔شہبازشریف دو سال جیل میں رہے اورجلا وطنی بھی کاٹی وہ کبھی وہیل چیئر پر بیٹھے نہ بالٹیاں سر پر لیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان پرویز الٰہی کو ڈاکو کہتا تھا تو پھر انہیں پارٹی میں لے لیا، پرویز الٰہی نے کرپشن کے ریکارڈ قائم کئے تو بھگتنا پڑے گا، مونس الٰہی سپین میں بیٹھا ہوا ہے ۔
پی ٹی آئی اور (ن) لیگ میں نیب پر ترامیم پر اتفاق تھا لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا، نیب کو ایسا ہونا چاہیے کہ میگا کرپشن کے سکینڈلز و کیسز والوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں ۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ اسمبلی توڑیں مگر پاکستان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا ،الیکشن ایک وقت میں ہوں گے ۔
ججز صاحبان سے کہوں گا اگر تین آرٹیکل میں لکھا ہے کہ صاف شفاف الیکشن ہوں،ججز دو آرٹیکل کو بھول جاتے ہیں اور ایک آرٹیکل کو ہی دیکھتے ہیں۔قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ معاشروں اور حکومتوں کو سمجھنا ہوگا کہ سپیشل پرسن بھی معاشرے کا اہم حصہ بنائیں جنہیں فعال شہری بنائیں، سپیشل افراد بہت پڑھے لکھے لوگ ہیں جس کی بہت خوشی ہے، الیکٹرک چیئر طلبہ و طالبات کو ہی نہیں دیں گے بلکہ انکے لئے بہت سے پروگرام ہیں، ایچ ای سی کوکہوں گا کہ پبلک سیکٹرکی یونیورسٹیز معذور افراد کیلئے ریمپ بنائے، پبلک سیکٹر یونیورسٹیز اپنا بجٹ رکھیں کہ معذور افراد کیلئے زمین پر کلاسیں ہونی چاہئے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ (ن) لیگ جب بھی حکومت میں آئی نوجوانوں کیلئے کام کیا خواہ لیپ ٹاپ سکیم ہی کیوں نہ ہو، ہائر ایجوکیشن کیلئے ٹیلنٹڈ بچے پڑھنا چاہتے تھے انہیں نہ صرف بیرون ملک بلکہ گورنر ہائوس مری لے کر گئے،اسمبلی میں شور پڑا کہ شاید ہائر ایجوکیشن کی سکالر شپ بیوروکریٹس کو ہی ملتی ہیں، ایچ ای سی کے پروگرام میں وزیراعظم کا بیٹا ہو یا میرا اگر میرٹ پر پورا نہ اترتا تو ہو اسے کہیں داخلہ نہیں ملتا، ایچ ای سی پروگرام سو فیصد میرٹ پر دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم وہاں کھڑے ہیں جہاں بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے ۔
ملک میں ساٹھ فیصد نوجوان ہیں 23ملین بچے سکولوں میں کبھی نہیں گئے جو دنیا میں سب سے زیادہ تعداد ہے، دنیا میں پی ایچ ڈی نوجوانوں کو نہیں بلکہ تکنیکی تعلیم حاصل کرنے والوں کو جگہ دے رہی ہے ،ہمیں اس وقت ووکیشنل ایجو کیشن کی ضرورت ہے کیونکہ مغرب وکیشنل ایجوکیشن کی طرف چلی گئی ہے، ہم کوالٹی ایجوکیشن اس لئے نہیں دے پا رہے کیونکہ ٹرینڈ ٹیچرز نہیں ہیں ،ہر یونیورسٹی میں ووکیشنل ایجوکیشن کا شعبہ ہونا چاہیے کیونکہ سب کام حکومت نہیں کر سکتی،ایچ ای سی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو اس لئے فنڈز دیں گے کہ وہ اپنی پرفارمنس بہتر کریں گے،نچلی رینکنگ والے پیسے نہ مانگیں ، ایک سیاسی رہنما آزادی مانگتا ہے ہم تو چودہ اگست کو آزاد ہوگئے تھے اب کون سی آزادی مانگتے ہیں۔
٭









