نیوز روم/امجد عثمانی
پاکستان زندہ باد…..!
پاکستان سے نفرت کی آگ دنیا میں ہی عذاب ہے….پون صدی گذر گئی…..جو بد نصیب پاک سر زمین کے حسد میں جلا راکھ کا ڈھیر بن گیا…….ہندوستان کے شدت پسند وزیر اعظم نریندر مودی نے سانحہ مشرقی پاکستان میں "حصہ دار” ہونے کا "اعتراف جرم” کرتے ہوئے کہا ہے”بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے جدوجہد میں شامل ہونا میری زندگی کے پہلے انقلاب میں ایک ہے….26مارچ کو ڈھاکہ میں حسینہ واجد کے "روبرو” مودی نے آدھی صدی بعد دل کی بات زبان پر لاتے ہوئے بتایا کہ میری عمر بیس بائیس سال ہوگی جب میں اور میرے کئی ساتھیوں نے بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے جدوجہد کی تھی…میں جیل بھی گیا…..
جب مودی بنگلہ دیش میں سقوط مشرقی پاکستان کا جشن منارہے تھے ،اسی روز بھارت کے دارالحکومت دہلی میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں جنونی ہندو ایک مسلمان نوجوان پر بہیمانہ تشدد کرتے ہوئے اسے پاکستان مردہ باد اور ہندوستان زندہ باد کے نعرے لگانے پر مجبور کر رہے تھے…..
بنگلہ دیش میں بھارتی وزیر اعظم کی” زہر آلود تقریر "اور دہلی میں مسلمان نوجوان کو پاکستان کیخلاف نعرے بازی پر مجبور کرنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ نفرت انگیز سوچ ہندوستان کا” قومی بیانیہ”ہے…….مودی تو بنیادی طور پر انتہا پسند آدمی ہیں ،بھارت کو سیکولر سٹیٹ قرار دینے والی اندرا گاندھی نے بھی مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر ایسی ہی” ہرزہ سرائی” کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبودیا ہے…..اکھنڈ بھارت کا سیدھا سادہ مطلب ہے پاکستان پہلے دن سے ہی”دل اغیار” میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے
…….بھارت کے” باپو” موہن داس کرم چند گاندھی ہندوستان کو دوبارہ متحد دیکھنے کی حسرت دل میں لیے مارے گئے جبکہ ان کے قاتل نتھو رام گوڈسے کا یہی ارمان بھی راکھ بن گیا…..ایل کے ایڈوانی بھی پاکستان ،بھارت اور بنگلہ دیشن کی کنفیڈریشن کاخواب دیکھتے دیکھتے "آنجہانی "ہو گئے…… نتھورام نے تو اپنے” خبث باطن” کو "زہریلے وصیت نامے” کی شکل دیتے ہوئے لکھوایا” میری راکھ اور ہڈیاں گنگا میں نہ بہائی جائیں بلکہ جب میری قوم پاکستان کو ختم کردے اور ہندوستان دوبارہ متحد ہو جائے تو راکھ دریائے سندھ کے دہانے بکھیر دی جائے تاکہ پاکستان کی ساری زمین "پوتر”ہوجائے”……کہتے ہیں بھارت کے جنونی نوجوان نتھو رام کی راکھ اور ہڈیوں کی زیارت کے دوران یہ عہد کرتے ہیں کہ اے گوڈسے…ہم تیرا وچن پورا کرینگے ..پاکستان کو توڑینگے اور بھارت کو پھر سے متحد کرینگے……
ہندوستان کے کینہ پرور حکمرانوں اور جرنیلوں کی پاکستان کیخلاف شر انگزیوں کے باوجود سبز ہلالی پرچم آسمان کی بلندیوں تک لہرائے جا رہا ہے…..پاکستان لغوی اور حقیقی معنوں میں ارض مقدس ہے….. مدینہ طیبہ سے نسبت والے اس خوش قسمت قطعہ ارضی پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص نگاہ کرم ہے…..یہ وہی پاک سرزمین ہے جہاں سے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو آئی….رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیوں پہلے اس خطے بارے بشارت دی……..اللہ کے مقرب بندوں کا ہمیشہ یہ مسکن رہا…. اس دھرتی کو ہزاروں اولیائے کرام کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہے…..قائداعظم محمد علی جناح ،علامہ محمد اقبال، چودھری رحمت علی،علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا اشرف علیٰ تھانوی اور پیر جماعت علی شاہ سمیت اس ’’ سکول آف تھاٹ‘‘ کے سب لوگ اللہ کے منتخب نمائندے تھے………پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ کا سلوگن بھی عام نعرہ نہیں بلکہ ریاست مدینہ کے بعد یہ دوسرا ملک ہے جو اس مقدس کلمہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا….یہ معجزاتی ریاست ہے جس کا خواب اقبال نے دیکھا…..
قائد اعظم نے اسے تعبیر بخشی اور چودھری رحمت علی نے اس کی پیشانی پر پاکستان کا نام سجا دیا….. ہزاروں عالی شان ہستیوں نے اپنے متعین کردہ فرائض انجام دیکر اس اسلامی ریاست کی تشکیل میں حصہ ڈالا…..لاکھوں مسلمانوں نے اپنے خون سے اس گلستان کو سینچا……جناب قدرت اللہ شہاب سے فیض یاب ممتاز دانشور ممتاز مفتی نے اپنے منفرد سفر نامہ حج ’’ لبیک‘‘ میں کچھ چشم کشا واقعات لکھے ہیں جن کی روشنی میں یہ بات پورے بھروسے سے کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں ہے اور مدینہ سے اس کا گہرا تعلق ہے…. مفتی صاحب لکھتے ہیں: جان محمد بٹ میرے اولین رہبر ہیں….. وہ بات پر بات پر فرمایا کرتے، مفتی جی آپ پاکستان کا غم نہ کھائیں، جنہوں نے یہ ملک بنایا ہے وہ اس کی رکھوالی کر لیں گے….. ایک روز میں نے پوچھا پاکستان کے محفوظ ہونے سے متعلق آپ اتنے وثوق سے کیسے بات کر سکتے ہیں؟ وہ بولے : ہمارے سرکار ان لوگوں میں سے تھے جو قیام پاکستان کیلئے کام کرنے پر مامور تھے…… ہمیں علم ہے کہ پاکستان کے سر پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ہے……
روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کلید بردار کی پاکستان بارے گواہی کا یوں تذکرہ کرتے ہیں: میں ایوان صدر میں تعینا ت تھا کہ ایک شخص مدینہ منورہ سے صدر کے نام پیغام لایا….. یہ پیغام مسجد نبوی شریف کے چابی بردار کی طرف سے تھا….. آپ پنجاب کے رہنے والے تھے…..فوج میں بھرتی ہوئے …. جنگ عظیم میں مشرق وسطیٰ پہنچے….حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کا جذبہ جنون بن گیا۔ ایک روز چپکے سے مدینہ عازم ہوئے…..وہاں پہنچ کر کیفیت طاری ہوئی کہ وہیں کے ہو رہے….خادم بنے، پھر یہ اعزاز حاصل ہوا کہ مسجد نبوی کے چابی بردار بن گئے….. ان کا پیغام تھا: 1947 میں ہم نے خواب دیکھا کہ مسجد نبوی شریف سے ایک پودا پھوٹا اور دیکھتے ہی دیکھتے بیل کی طرح دور بہت دور تک چلا گیا…. اس کے پر لے سرے پر سبز پتیاں نکل آئیں…..کئی سال بعد پھر وہی خواب آیا کہ اس پودے پر جو سبز پتیاں تھیں وہ خشک ہوگئی ہیں لیکن مسجد نبوی شریف میں اس کی جڑ جوں کی توں ہری ہے….. برسوں بعد اب پھر وہی خواب دیکھا ہے کہ پرلے سرے کی خشک پتیاں پھر سے ہری ہو رہی ہیں…..مبارک ہو…..!!!
مفتی صاحب 1965 کی پاک بھارت جنگ بارے لکھتے ہیں: لاہور کے مشہور و معروف حکیم اور دانشور نیئر واسطی صاحب 65 کی جنگ کے دوران مدینہ منورہ میں مقیم تھے….. وطن واپسی پر انہوں نے ریڈیو پاکستان سے جنگ بارے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا ’’ لاہور کی وہ خاتون جو 18 سال سے مدینہ منورہ میں رہائش پذیر ہیں اور روضہ پاک کی جالی کے پاس بیٹھی رہتی ہیں….اس نے بتایا کہ 6 ستمبر کو میں نے حضور اعلی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر پریشان دیکھا پہلے کبھی نہ دیکھا تھا‘‘
’’ ایک بزرگ جو روزانہ روضہ اطہر پر مجھ سے ملتے تھے…. 6 ستمبر کو کہیں دکھائی نہ دیئے….ایک مرید نے بتایا کہ آپ جہاد کیلئے پاکستان گئے ہیں ‘‘ ایک اور بزرگ نے فرمایا کہ غزوہ بدر کے تمام شہداء پاکستان پہنچ چکے ہیں تاکہ جہاد میں شامل ہوسکیں۔‘‘ ممتاز مفتی لکھتے ہیں: پھر جنگ بارے بھارتی قیدیوں کے بیانات اخبارات کی زینت بنے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ بھارتی سپاہی پاکستان کی اس فوج سے خائف تھے جو تلواروں سے لڑتی تھی اور ان کی شمشیروں سے بجلی کے شعلے نکلتے تھے……
حرم کعبہ اور حرم مسجد نبوی شریف میں آج بھی بے شمار مستجاب الدعوات بزرگ ہاتھ اٹھائے ،جھولیاں پھیلائے آنسوئوں کی رم جھم میں پاکستان کیلئے دعاگو رہتے ہیں……..پاکستان خوش نصیب ملک ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کیلئے فکرمند ہوتے اور پاک فوج خوش قسمت ہے کہ شہدائے بدر اس کے مددگار ہیں….کلمہ طیبہ کے سائے تلے یہ سوہنی دھرتی ہمیشہ شاد آباد رہے گی اور پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے ہمیشہ گونجتے رہیں گے……..!!!!
نور خدا ہے کفر کی حرکت پر خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا









