اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز کو ویگو ڈالوں سے بچائیں، شام کے بعد وزیر کی گاڑی پر جھنڈا نہیں ہوناچاہئے۔سپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کی سیکیورٹی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اسپیکر نے ارکان کو ہدایت کی کہ بغیر پاس کسی بھی شخص کو پارلیمنٹ ہاﺅ س میں داخل نہ ہونے دیا جائے کیوں کہ سیکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔ اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے ارکان کے مہمانوں کی تعداد محدود کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔سپیکر سردار ایاز صادق نے کہاکہ حکومت اور اپوزیشن ملکر ضابطہ اخلاق بنا لیں۔
وزیردفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ لاجز میں ویگو ڈالوں کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ویگو ڈالا ایک ولگر کلچر بن چکا ہے اور جو اس کی اسٹیئرنگ پر بیٹھتا ہے اس کے رویے میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے۔ خواجہ آصف نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ لاجز کو ویگو ڈالوں سے پاک کیا جائے، شام کے بعد سرکاری جھنڈوں والی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور غیر ضروری پروٹوکول کا خاتمہ کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ اگر اراکین اسمبلی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تو وزرا کو بھی غیر ضروری سیکیورٹی اور پروٹوکول کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہناتھاکہ ویگوڈالا بے حیائی ہے،ہم اقتدار میں ہوتے ہیں تو ہمارے آگے پولیس ہوتی ہے، اور جب ہم اقتدار میں نہیں ہوتے تو ہمارے پیچھے پولیس ہوتی ہے ویگو ڈالے سڑکوں پر بھی بین کرنے چاہیں۔
قومی اسمبلی میں ہونے والی اس دلچسپ بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن دونوں نے پارلیمنٹ کے وقار، ایوانی نظم و ضبط اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، جب کہ اقبال آفریدی کی معطلی ختم ہونے کے بعد سیاسی ماحول میں بھی قدرے نرمی دیکھنے میں آئی۔ خواجہ آصف کا کہناتھا کہ مجھے اور نوازشریف کو توہین کے الزام میں عدالت طلب کیاگیا، 4اراکین کو بھی توہین کے الزام میں عدالت طلب کیاگیا،یہاں فوج پر بھی تنقید ہوتی ہے میں خود کرتا رہا ہوں،سب اراکین ملکر ضابطہ اخلاق بنا لیں،حاضر سروس جج کو نشانہ نہیں بنانا چاہئے۔ پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے نے کہا کہ مسلح افواج اور عدلیہ پر تنقید نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن رہنماوں کی تقاریر نہیں دکھائی جاتیں، یہ پابندی ختم کی جائے۔
علی محمد خان کی بات پر جواب دیتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ ایسا بالکل نہیں، کوئی پابندی نہیں ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایوان میں ہماری تقاریر بند کردی جاتی ہیں، بےشک آپ بعد میں تقاریرچلائیں لیکن چلائیں۔اس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ مجھے نیشنل سکیورٹی سے متعلق معاملات کو دیکھنا ہوتاہے، بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ ہم نیشنل سکیورٹی کے خلاف کوئی بات نہیں کرتے۔ قبل ازیں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کے تقدس پر کوئی سمجھوتا نہ کریں،مسلح افواج،اعلی عدلیہ ججز کے خلاف کسی کو بات نہ کرنے دیں۔سپیکر قومی اسمبلی نے کہاکہ اراکین میرے ساتھ بیٹھ کر کوڈآف کنڈکٹ طے کریں، یہ ضروری ہے۔