ماسکو، اسلام آباد(کامرس ڈیسک)روس نے پاکستان کے صوبہ پنجاب سے آلو کی درآمد پر عائد پابندیاں ختم کرتے ہوئے 101 پاکستانی برآمد کنندگان کو دوبارہ برآمدات کی اجازت دے دی ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تجارتی افسر برائے ماسکو نے بتایا ہے کہ روسی حکام نے پاکستان کے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے فراہم کردہ قرنطینہ اور فائیٹو سینیٹری نظام کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا۔
روسی فیڈرل سروس برائے ویٹرنری و فائیٹو سینیٹری نگرانی نے اس فیصلے سے باضابطہ طور پر پاکستان کی وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ روس نے پنجاب سے آلو کی درآمد کی اجازت پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ فائیٹو سینیٹری ضمانتوں کی بنیاد پر دی ہے۔ روسی حکام نے پاکستانی برآمد کنندگان کی فہرست اور برآمدی مقدار کا جائزہ لینے کے بعد 101 کمپنیوں کو کلیئر قرار دیا۔تاہم روس نے دو پاکستانی برآمد کنندگان کو بدستور برآمدات کی اجازت نہیں دی۔ روسی حکام کا موقف ہے کہ ان کمپنیوں نے 2025 کے دوران روس کو آلو برآمد کرتے وقت یوریشین اکنامک یونین کے قرنطینہ اور فائیٹو سینیٹری ضوابط کی خلاف ورزی کی تھی، جس کے باعث انہیں اس رعایت سے مستثنی رکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق روسی حکام نے یہ بھی یاد دلایا کہ رواں سال 8 اپریل کو تین پاکستانی برآمد کنندگان کو پہلے ہی محدود پیمانے پر برآمدات کی اجازت دی جا چکی تھی۔ ان میں چیس انٹرنیشنل، زاہد کنوں گریڈنگ اینڈ ویکسنگ پلانٹ اور نیشنل فروٹ شامل تھے۔پاکستانی تجارتی مشن نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق سے درخواست کی ہے کہ روسی فیصلے پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ برآمد کنندگان اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔