امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کا فیصلہ آئندہ 24 گھنٹوں میں سامنے آ جائے گا۔ ان کے بقول یہ ایک "آخری پیشکش” ہے جس پر خطے کے امن کا انحصار ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ اس تجویز پر سعودی عرب سمیت کئی ممالک سے مشاورت کی گئی ہے تاکہ معاہدہ ابراہیمی کو وسعت دی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل پہلے ہی 60 دن کی جنگ بندی کی شرائط مان چکا ہے، اور اگر حماس بھی رضامند ہوئی تو فریقین کے درمیان مستقل امن کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ادھر حماس سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ صرف اس صورت میں جنگ بندی پر رضامند ہوں گے جب انہیں یقین دہانی کرائی جائے گی کہ یہ اقدام غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خاتمے پر منتج ہوگا۔
غزہ میں صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 56 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ خوراک کی شدید قلت، طبی سہولیات کی کمی اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے بحران کو سنگین تر بنا دیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم اور نسل کشی کے الزامات پر مقدمات دائر ہو چکے ہیں، جنہیں اسرائیل مسترد کرتا ہے۔ دریں اثناء، صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا 10 سے 12 ممالک کو اقتصادی ٹیرف سے متعلق خطوط بھیجنے جا رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر تجارتی رابطے بڑھائے جا سکیں۔
ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ جلد مزید ممالک معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوں گے، خاص طور پر ایران کے خلاف نئی صف بندی کے تناظر میں۔









