• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
اتوار, 1 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home تبصرہ / تجزیہ

نیوز روم /امجد عثمانی

News Editor by News Editor
اگست 21, 2023
in تبصرہ / تجزیہ
0 0
0

یہ "نفرت فروش” کون تھے؟؟؟

فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا برا ہوا۔۔۔۔۔۔یہ "اسلامی بیانیہ” ہے نہ "پاکستان کا چہرہ”۔۔۔۔۔۔اسلام کے منشور حیات میں اقلیتوں سے حسن سلوک ایک” لازمی باب” ہے تو وطن عزیز کے پرچم سے دستور تک،اقلیتوں کے حقوق کی واضح "جھلک” بھی ملتی ہے۔۔۔۔۔

اسلامی اسلوب یہ ہے کہ مسلمانوں کی صبح کا آغاز جس کتاب ہدایت قرآن مجید سے ہوتا ہے اس میں جگہ جگہ حضرت عیسٰی علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے فضائل کا تذکرہ ملتا ہے۔۔۔۔۔۔اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی ان برگزیدہ ہستیوں کے اوصاف حمیدہ کا ذکر موجود ہے۔۔۔۔۔مسلمان گھرانوں میں تو ان دو مبارک ناموں کی گونج صبح سے شام سنائی دیتی ہے کہ کسی گھر میں بیٹے کا نام عیسٰی ہے تو کسی گھر میں بیٹی کا نام مریم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی دوسرے مذہب کی مقدس شخصیات کے نام پر اپنے بچوں کے نام رکھنا عقیدت کی ایک ایسی اعلی مثال ہے شاید دنیا میں جس کی کوئی مثال نہ ملے۔۔۔سوال یہ ہے کہ ہمیں ادب کا یہ قرینہ کس نے سکھایا؟جواب ہے کہ قرآن مجید اور صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ روشنی بخشی۔۔۔۔!!!پھر کوئی بدبخت ہی ہو سکتا ہے جو قرآن مجید ایسی محبت انگیز کتاب کی توہین کا سوچے۔۔۔۔

کوئی ملعون ہی ہو سکتا ہے جو محبتیں بانٹنے والے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کی تنقیص کا خیال بھی کرے۔۔۔۔۔۔۔۔اسی طرح کوئی شرپسند ہی ہو سکتا ہے جو قرآن اور صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح احکامات کے برعکس قانون پسند مسیحی اقلیت کے گھروں یا عبادت گاہوں کو پامال کرے۔۔۔۔یہ وہ جرائم ہیں جنہیں سوچ کر ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔۔۔۔۔مکرر عرض ہے کہ یہ "اسلامی بیانیہ” ہے نہ پاکستان کا چہرہ۔۔۔۔۔

کیا یہ سچ نہیں کہ روز مرہ زندگی میں وطن عزیز کی مساجد کے محراب و منبر سے کبھی ایسی نفرت انگیز آواز گونجتی ہے نہ ملک کے گلی محلوں میں کوئی ایسا تعصب نظر آتا ہے؟؟؟ہاں ہجوم کی بات اور ہے اور ہجوم کسی مذہب کی نمائندگی کرتا ہے نہ کسی ملک کی عکاسی۔۔۔۔۔۔ہجوم ایک "شتر بے مہار” گروہ ہوتا ہے جس کا دنیا کے دوسرے مذہب اور ممالک کی طرح اسلام اور پاکستان پر بھی اطلاق قرین انصاف نہیں۔۔۔۔۔

ہجوم مغرب کا ہو یا مشرق کا، ہجوم ہی کہلائے گا۔۔۔۔۔۔۔نام نہاد روشن خیال تو فرضی باتیں کرتے اور محض اقلیتوں کے زخموں کی تجارت کرتے ہیں۔۔۔۔میں آپ بیتی کہہ رہا ہوں کہ چند سال پہلے ایک ہی عمارت میں ایک مسیحی خاندان دو برس کے لیے ہمارا ہمسایہ ٹھہرا۔۔۔۔۔۔وہ فرسٹ اور ہم سیکنڈ فلور میں رہائش پذیر تھے۔۔۔۔۔ہم نے ان دو سال میں ان کو دو مرتبہ کرسمس پر کیک بھجوایا۔۔۔۔

ان کے والد کے انتقال پر ان کے پاس جاکر ان سے اظہار افسوس کیا۔۔۔۔۔۔ان کی بیٹی کی منگنی پر اپنے رواج مطابق "سلامی” دی۔۔۔۔۔۔دو سال بعد جب وہ رخصت ہونے لگے تو ان کی بیٹیاں بچوں کی طرح رونے لگیں کہ ہمارا یہاں سے جانے کو دل نہیں کر رہا ۔۔۔دعا کریں کہ ہمیں آگے بھی کوئی ایسا پڑوسی مل جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے یاد ہے کہ میں اکثر ان کے بیٹے کے ساتھ مذہبی ہم آہنگی پر بات کرتا۔۔۔۔میں اسے بتاتا کہ قرآن مجید بھی کیا ہی معتدل کتاب ہے کہ اس میں کسی خاتون کے نام سے صرف ایک ہی سورت ہے.

اور وہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت مریم علیہا السلام سے منسوب ہے۔۔۔۔میں اسے بتاتا کہ قرآن مجید میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کا اسم گرامی بھی بار بار آیا ہے۔۔۔۔۔ایسی ہی آپ بیتی عیسٰی نگری میں افضال مسیح کے ہم سائے محمد ارشد نے کہی ہے۔۔۔۔۔بی بی سی سے بات کرتے انہوں نے پاکستانی کلچر کی کہانی سنائی اور کہا کہ پینتالیس سال سے ادھر رہائش پذیر ہیں۔۔۔۔کبھی یہاں رہنے والے مسیحی اور مسلمان برادری کے افراد کو آپس میں لڑتے نہیں دیکھا۔۔۔۔وہ ہمارے گھروں میں آتے ہیں۔۔۔۔ ہم ان کے گھروں میں جاتے ہیں۔۔۔۔ایک دوسرے کی طرف کھانے بھجواتے ہیں۔۔۔۔

شادی بیاہ کے مواقع پر ایک دوسرے کے کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔۔۔۔محمد ارشد نے بتایا کہ ہماری خواتین نے بھی مسیحی برادری کے محلے میں رات کے پہر جاتے ہوئے خود کو کبھی غیر محفوظ محسوس نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔اسی طرح ان کی خواتین بھی ہمارے گھروں میں آسانی سے آتی جاتی ہیں۔۔۔ ہمارے تو آپس میں اس قسم کے تعلقات ہیں۔۔۔۔محمد ارشد نے حقائق بتائے کہ وقوعہ کی صبح لوگ ٹہلنے کے لیے گھروں سے نکلے تو انہوں نے گلی کی نکڑ پر چند اوراق بکھرے دیکھے، جن پر سرخ سیاہی سے کچھ تحریر ہوا تھا۔۔۔۔۔ساتھ ہی اسی سرخ سیاہی سے لکھی ایک ہاتھ کی تحریر بھی تھی۔۔۔۔

اسی تحریر کے اوپر دو لوگوں کی تصاویر لگی ہوئی تھیں اور ساتھ میں ان کے نام، ٹیلیفون نمبر اور پتے بھی درج تھے۔۔۔۔۔وہ کہتے ہیں محلے والے ان تصاویر میں موجود باپ بیٹے کو اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے۔۔۔۔محلے میں کسی کو یقین نہیں تھا کہ وہ ایسا اقدام کر سکتے ہیں۔۔۔۔ہم کئی دہائیوں سے انہیں جانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد ارشد کو اس بات پر بھی تعجب ہے کہ اگر کوئی شخص غلط کام کرے گا تو وہ خود اپنا نام اور پتا کیوں بتا کر جائے گا؟وہ اور ان کے ساتھ محلے میں رہنے والے دیگر افرادسمجھتے ہیں کہ مسیحی برادری کے ان افراد کو کسی نے پھنسانے کی کوشش کی تھی مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کون ہو سکتا ہے اور ایسا کیوں کرنا چاہتا ہے؟

؟جلائو گھیرائو کے دوران مسیحی گھروں پر پہرہ دینے والے محمد ارشد کہتے ہیں ان کے محلے کا کوئی مسلمان شخص مسیحی ہمسائیوں کے گھروں کو جلانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔جن لوگوں نے یہ کام کیا وہ یہاں کے نہیں تھے۔۔۔۔وہ لوگ آس پاس کے دیہات سے آئے تھے یا دوسرے علاقوں سے یہاں آئے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی یہی گواہی دی ہے کہ جب کشیدگی اور افراتفری بڑھی تو کئی مسلمان سڑکوں پر نکلے تاکہ اپنے مسیحیوں ہم سایوں کو بچائیں اور انہیں اپنے ہاں پناہ دیں۔۔۔۔۔پادری جاوید بھٹی نے بھی اعتراف کیا کہ مشتعل ہجوم باہر سے آیا مگر مقامی مسلمانوں نے ہماری مدد کی اور ہمیں بچانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاوید بھٹی کی گلی کے رہائشی طارق رسول نے انکشاف کیا کہ مشتعل ہجوم کو آتا دیکھ کر مقامی مسلمانوں نے فوری طور پر مسیحیوں کے گھروں کے دروازوں پر قرآنی آیات چپکائیں تاکہ تشدد نہ پھیلے۔۔۔۔۔انہوں نے بتایا کہ دو مسیحی خواتین دوڑ رہی تھیں۔۔۔۔۔میں نے اپنے گھر کا دورازہ کھولا اور انہیں اندر آنے دیا۔۔۔۔ وہ ڈری ہوئی تھیں۔۔۔۔میں نے انہیں حوصلہ دیا۔۔۔۔۔چرچ آف پاکستان کے بشپ ڈاکٹر آزاد مارشل کا نقطہ نظر بھی یہی ہے۔۔۔۔انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مجھے ابھی تک کوئی مسلم سکالر نہیں ملا جو جڑانوالہ کے واقعات کو صحیح سمجھتا ہو۔۔۔۔

مگر معلوم نہیں کہ یہ نفرت کہاں سے ابھر رہی ہے۔۔۔یہ ایک ناقابل یقین صورتحال ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسیحی بستی میں اقامت پذیر مسلمان شہریوں اور چرچ آف کے پاکستان کے بشپ کے سوالات بڑے اہم ہیں۔۔۔۔۔اہم سوال یہ ہے کہ قرآن مجید کی توہین کے مبینہ ملزم "محض پھنسائے” گئے اور بلوائی بھی "جانے پہچانے لوگ”نہیں تھے تو پھر یہ نفرت فروش کون تھے؟؟؟ پولیس اور انتظامیہ پر تو انگلیاں آٹھ گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اب یہ تحقیقاتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سوالات کی کھوج لگائیں تاکہ اصل ملزموں کا "کھرا” مل سکے اور نفرت کا یہ باب ہمیشہ کے لیے "مقفل” ہو جائے۔۔۔۔۔!!!!

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Tags: امجد عثمانیتحقیقاتی اداروںکھوج لگائیںمقفلنفرت فروش
Previous Post

والد سپورٹ نہ کرتے تو آج میں مومو یا شکورن نہ ہوتی' حنا دلپذیر

Next Post

کرکٹ ورلڈکپ کے شیڈول میں تبدیلی کا معاملہ پھر سر اٹھانے لگا، ورلڈ کپ 2023میں ایک مرتبہ پھر تبدیلی متوقع

News Editor

News Editor

Next Post
آئی سی سی

کرکٹ ورلڈکپ کے شیڈول میں تبدیلی کا معاملہ پھر سر اٹھانے لگا، ورلڈ کپ 2023میں ایک مرتبہ پھر تبدیلی متوقع

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5879

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

570
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

464
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

279

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading