تہران(انٹرنیشنل نیوز) ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نے دعوی کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان زیرِ غور 14 نکاتی مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے تحت واشنگٹن ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر مذاکرات کے آغاز سے قبل جاری کر سکتا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مہر نیوز ایجنسی نے ایک ایسی دستاویز شائع کی ہے جس میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ تاہم اس دستاویز کی تاحال کسی بھی فریق نے باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں یہ شق شامل ہے کہ مفاہمتی یادداشت طے پانے کے بعد شروع ہونے والے 60 روزہ مذاکراتی دور کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔ دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ اس رقم کا نصف، یعنی 12 ارب ڈالر، مذاکرات کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ایران کو فراہم کیا جائے گا تاکہ اعتماد سازی کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ مفاہمت میں پابندیوں میں نرمی، اقتصادی تعاون اور جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر بھی بات چیت شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم ابھی تک ایران یا امریکا کی جانب سے اس دستاویز کی صداقت یا اس میں شامل نکات کی سرکاری توثیق نہیں کی گئی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور اقتصادی تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نے بھی اس معاملے پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے۔عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جیسے ہی 14 نکات پر مشتمل اس یادداشتی خط پر دستخط ہوں گے، ایران کے روکے ہوئے تمام اثاثے اور فنڈز بحال کر دیے جائیں گے۔
انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ اس دستاویز میں سب سے پہلی بات امریکا کی طرف سے سمندری ناکہ بندی کو ختم کرنا ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو بات چیت کے دوسرے مرحلے میں شامل کیا گیا ہے۔مہر نیوز نے یہ بھی دعوی کیا کہ حتمی مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی امریکا ایران کو 12 ارب ڈالر کی رقم جاری کر دے گا اور امریکا اور اس کے ساتھی ممالک کو ایران کی دوبارہ تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کا منصوبہ بھی دینا ہوگا۔ پیر امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کو لے کر دونوں ممالک کے اعلی حکام کی طرف سے متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں، جس کی وجہ سے اس معاہدے کی اصل حقیقت الجھ گئی ہے۔ سب سے بڑا جھگڑا ایران کے ان اربوں ڈالر پر ہو رہا ہے جو امریکا نے منجمد کر رکھے ہیں۔
یہ تضاد اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فخر سے یہ اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے، لیکن اس کے فورا بعد ہی دونوں ملکوں کے حکام نے اس معاہدے کے کاغذات میں لکھی ہوئی باتوں کی الگ الگ تشریح کرنا شروع کر دی۔ایران کا کہنا ہے کہ اسے منجمد فنڈز قسطوں میں ملیں گے جبکہ امریکی حکام اس بات کو بالکل جھوٹ قرار دے رہے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے ایک اعلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ معاہدے کی دستاویز میں ایران کے جوہری پروگرام، سمندری راستے یعنی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے تیل پر لگی امریکی پابندیوں کو ہٹانے جیسے تمام اہم معاملات شامل کیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کی طرف سے اس یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد اگلے ساٹھ دنوں میں اصل اور حتمی معاہدے پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
عہدیدار نے کہا کہ معاہدے کے مطابق امریکا ایران کے روکے ہوئے 25 ارب ڈالر کے اثاثے بحال کرے گا، اور ان پیسوں میں نقد رقم کی منتقلی، علاقائی ممالک کا آپسی تعاون اور بینکوں کے ذریعے قرضے کی سہولیات شامل ہوں گی۔دوسری طرف امریکا کی جانب سے ان تمام ایرانی دعوں کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے نے وائٹ ہاﺅ س اور امریکی حکام کے حوالے سے ایرانی میڈیا کی اِن خبروں کو بالکل غلط قرار دیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے روکے ہوئے پیسے جاری کر رہا ہے۔
رپورٹ میں وائٹ ہاﺅ س حکام کے حوالے سے لکھا گیا کہ ایران کے فنڈز جاری کرنے کے حوالے سے خبریں بالکل درست نہیں ہیں، یہ معاہدہ اصل میں کام کرو اور فائدہ پا کی بنیاد پر طے ہوا ہے اور جب تک ایرانی حکومت اپنے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کرتی، تب تک ان کا ایک روپیہ بھی بحال نہیں کیا جائے گا۔امریکی حکام کا موقف ہے کہ ساٹھ دنوں کی بات چیت شروع ہونے سے پہلے ایران کسی بھی صورت ان روکے ہوئے پیسوں کو بغیر کسی شرط کے ہاتھ نہیں لگا سکتا۔