دوحہ (انٹرنیشنل ڈیسک)غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی پر قطر، مصر اور امریکا کی ثالثی میں معاہدے کی کوششیں مہینوں سے جاری ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دوحہ میں جاری بات چیت میں اہم نکات پر خاطر خواہ پیشرفت ہوئی ہے، فریقین کو نئی ٹھوس تجویز پیش کی گئی ہے جس پر دونوں طرف سے مثبت رد عمل سامنے آیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہائی کے بدلے حماس کے ہاتھوں یرغمال 30 اسرائیلیوں کو رہا کرنیکی تجویز ہے۔
اس حوالے سے قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے فریقین کے درمیان حتمی خلا کوختم کرنیمیں اہم کردارادا کیا، قطری وزیراعظم، حماس اور امریکی نومنختب صدر ڈونلڈٹرمپ کے نامزد مندوب برائے مشرق وسطی اسٹیو وٹکوف نے اسرائیل پر زور دیا تاکہ وہ معاہدے کے قائل ہوسکیں ۔دوسری جانب امیر قطر شیخ تمیم بن حمادالثانی نے حماس کے نمائندوں اور امریکی مندوبین وٹکوف اور بریٹ مک گرک سے ملاقاتیں کیں، امیرقطر نے حماس کے مذاکرات کار خلیل الہیہ سے سیزفائر مذاکرات میں پیشرفت پرگفتگو کی۔
وائٹ ہاس کے مطابق صدر جوبائیڈن نے امیرقطر شیخ تمیم سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور دوحہ میں جاری غزہ سیز فائرڈیل سے متعلق مذاکرات پرتبادلہ خیال کیا، دونوں رہنماں نے یرغمالیوں کی رہائی کیلئے معاہدے پر فوری عملدرآمد اور سیزفائرکے ذریعے غزہ میں انسانی امدادکی ترسیل اورمعاہدیپرزور دیا۔امریکی صدر نے محکمہ خارجہ میں الوداعی خطاب میں کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ سے متعلق میں نے مہینوں پہلے جو تجویز پیش کی تھی وہ معاہدے کے دہانیپر ہے۔
مزید برآں وائٹ ہائوس کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جیک سلیوان نے توقع ظاہر کی ہیکہ جنگ بندی معاہدے کو رواں ہفتے حتمی شکل دی جائیگی۔ان کا کہنا تھا کہ میں کوئی وعدہ یا پیش گوئی نہیں کررہا، معاہدہ ہونا ہے اور ہم اس پر کام کررہے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭









