غزہ میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے درمیان ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہیں حماس کی جانب سے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مثبت تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ یہ تجاویز باقاعدہ طور پر ثالثی کے عمل کے تحت اسرائیل کو پہنچائی گئی ہیں۔
اسرائیلی حکومت کے ترجمان کے مطابق متعلقہ ادارے اس مجوزہ معاہدے کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں، جس کے بعد حتمی موقف اختیار کیا جائے گا۔ حماس کے قریبی ذرائع کے مطابق معاہدے میں جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی، اور اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی جیسے اہم نکات شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدہ آئندہ ہفتے تک طے پا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں اسرائیلی وزیر اعظم آئندہ چند روز میں امریکا کا دورہ کریں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف غزہ میں انسانی بحران میں کمی آئے گی بلکہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک نئی امن راہ ہموار ہو سکتی ہے۔









