لاہور: وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے خواتین کے لباس سے متعلق دیے گئے متنازع بیان پر اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں کہا کہ وہ بھی ایک عورت اور ماں ہیں، اور سمجھ سکتی ہیں کہ خواتین کو کس طرح لباس کے حوالے سے غیر ضروری تنقید اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بیان جذبات میں دیا گیا جس پر انہیں افسوس ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر صرف لباس کی بنیاد پر تنقید کرنا درست نہیں، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ صوبے کے لیے کیا خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’خواتین کو سر سے پاؤں تک تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اور ن لیگ کی خواتین کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی جاتی ہے‘۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہمیشہ خواتین کے لباس پر ہی کیوں بات کی جاتی ہے، ان کی صلاحیتوں اور کارکردگی پر بات کیوں نہیں ہوتی؟









