اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی نقصانات کی اصل وجہ بارش کو قرار دینا درست نہیں بلکہ نالوں، دریاؤں اور آبی گزرگاہوں پر غیرقانونی تعمیرات اور ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں جنہوں نے قدرتی راستوں کو بند کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ لوگ پانی کے بہاؤ کی زمینوں پر گھروں اور ہوٹلوں کی تعمیر کر چکے ہیں، دریاؤں کے کناروں پر قبضہ کر کے کمرشل منصوبے بنا لیے گئے جس کے باعث حالیہ بارشوں میں نقصانات کئی گنا بڑھ گئے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بڑے ڈیمز کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کے بجائے چھوٹے ڈیم تعمیر کیے جائیں تاکہ ہر گاؤں اپنی ضرورت کے مطابق پانی ذخیرہ کر سکے۔ ان کے مطابق بھاشا اور دیامر جیسے بڑے منصوبے مکمل ہونے میں ایک دہائی سے زیادہ لگ جاتی ہے، اس لیے فوری اور چھوٹے اقدامات کرنا ناگزیر ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بارش اللہ کی رحمت ہے، اسے آفت کہنا غلط ہے۔ اصل غلطی یہ ہے کہ ہم نے پانی کے قدرتی راستوں پر تعمیرات کر کے اپنی مشکلات خود بڑھا لی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بلدیاتی اداروں کو فعال اور مضبوط بنایا جائے تاکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر نظام قائم ہو سکے۔









