سپریم کورٹ

سپریم کورٹ، ملزم کے 14سال سزا کاٹ کر رہا ہونے پر اپیل خارج

اسلام آباد(کورٹ نیوز )ملزم کی عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے سے متعلق اپیل پرسپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ رپورٹ میں لکھا ہے 14سال کے بعد بقیہ سزا پر صدر مملکت نے عام معافی دی،302میں ایک سزا پوری ہونے کے بعد دوسری کیسے دے سکتے ہیں؟ صدر مملکت کو آئین نے اختیار دیا کہ سزا کم کر سکتے ہیں جو انہوں نے کی،اگر آپ نے سزا بڑھانی ہے تو آئینی ترمیم کروا لیں،ویسے بھی آج کل آئینی ترامیم کرنا کونسا مشکل ہے۔

سپریم کورٹ میں عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے سے متعلق اپیل پر سماعت ہوئی،جیل سپرنٹنڈنٹ ژوب ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے ریمارکس دئیے کہ کہ رپورٹ میں لکھا ہے 14سال کے بعد بقیہ سزا پر صدر مملکت نے عام معافی دی،عمر قید والے ملزم کی سزا14سال کس قانون کے تحت طے کی؟سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے عمر قید کا ملزم 17سال لازمی پورے کرے گا، اب تو ملزم رہا ہو چکا، معاملے کو کسی اور کیس میں دیکھیں گے۔

عدالت نے کہاکہ 302میں ایک سزا پوری ہونے کے بعد دوسری کیسے دے سکتے ہیں؟قتل ثابت ہونے پر عدالت نے فیصلہ دیا، عملدرآمد بھی ہو چکا، آپ کا تعلق جس علاقے سے ہے وہاں تو سب کے پاس اسلحہ ہوتا ہے، اگر ہم وکلا کی تلاشی لیں تو 70فیصد سے اسلحہ نکلے گا، صدر مملکت کو آئین نے اختیار دیا کہ سزا کم کر سکتے ہیں جو انہوں نے کی،اگر آپ نے سزا بڑھانی ہے تو آئینی ترمیم کروا لیں،ویسے بھی آج کل آئینی ترامیم کرنا کونسا مشکل ہے،ملزم کے 14سال سزا کاٹ کر رہا ہونے پرسپریم کورٹ نے اپیل خارج کردی۔

اپنا تبصرہ لکھیں