پاکستان، ایران اور عراق نے زائرین کے سفر کو منظم بنانے کے لیے نئی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے۔ اب ایران اور عراق جانے والے پاکستانی زائرین صرف منظور شدہ گروپ آرگنائزر کے تحت سفر کر سکیں گے، اور یکم جنوری 2026 سے صرف مخصوص ویزا رکھنے والے افراد ہی انفرادی طور پر عراق جا سکیں گے۔
تہران میں منعقدہ سہ ملکی وزرائے داخلہ کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ تینوں ممالک ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بنائیں گے جو زائرین کی سہولت، سلامتی، اور سفری نظام کو بہتر بنانے پر کام کرے گا۔ اس فیصلے کا مقصد غیر قانونی داخلے اور زائرین کے طویل قیام جیسے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ایرانی اور عراقی حکومتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں زائرین کی دیکھ بھال ایک بڑا چیلنج ہے جسے ایران اور عراق کی حکومتیں احسن طریقے سے سرانجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیا نظام ان افراد کے لیے رکاوٹ بنے گا جو غیر قانونی طریقے سے عراق داخل ہوتے ہیں یا مقررہ مدت سے زیادہ قیام کرتے ہیں۔
وزیرداخلہ نے ایران کی حالیہ جنگی فتح پر ایرانی قیادت کو مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان ہمیشہ ایران کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے۔ انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اُن کی جرات مندانہ رہنمائی نے ایرانی قوم کو کامیابی دلائی۔
کانفرنس میں ایران، عراق اور پاکستان کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جن میں ایرانی نائب وزیرداخلہ علی اکبر پور جمشیدیان، پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو، اور عراق کی وزارت داخلہ کے سینیئر نمائندے شامل تھے۔









