• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
اتوار, 1 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home چائنہ کی خبریں
سکیورٹی ڈپارٹمنٹ

دیواریں تعمیر کرنے والے عظمت کے حقدار نہیں ہوتے، چینی میڈ یا

Muhammad Siddique by Muhammad Siddique
مئی 26, 2025
in چائنہ کی خبریں
0 0
0

بیجنگ (نیوز ڈیسک) امریکا کے ہوم لینڈ سکیورٹی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے عائد پابندی نے معروف ہارورڈ یونیورسٹی کو طوفان کے مرکز میں دھکیل دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا کہ حکومت نے ہارورڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی طلبا ء کو داخلہ دینے کی اہلیت کو منسوخ کر دیا، جس کے تحت یونیورسٹی میں تقریباً 6،800 غیر ملکی طلبا ء کو جلد از جلد ٹرانسفر کرنا ہوگا یا اپنی قانونی حیثیت کھونا ہوگی۔

امریکی وزیر برائے ہوم لینڈ سکیورٹی کرسٹی نوئم نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی پر پابندی امریکہ کی تمام جامعات اور تعلیمی اداروں کے لیے ایک انتباہ ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف امریکی اعلیٰ تعلیم کی روایتی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ امریکہ میں نام نہاد سیاسی اشرافیہ کی جانب سے سیاسی مفادات کی خاطر ملک کی بنیاد کو ہلانے کی نظری کمزوری کو بھی بے نقاب کیاہے ۔

اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت ہارورڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی طلباء کا تمام طلبا ء میں تناسب 27 فیصد سے زیادہ ہے، جو دنیا بھر کے 140 سے زیادہ ممالک اور علاقوں سے وابستہ ہیں اور ان میں سے زیادہ تر گریجویٹ پروگراموں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں. ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پابندی کا اعلان ہوتے ہی ہارورڈ یونیورسٹی اور امریکی معاشرے کے تمام حلقوں کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی۔ ہارورڈ کے اسکول میگزین دی ہارورڈ کرمسن نے ایک مضمون میں نشاندہی کی کہ امریکی کانگریس کی متعدد کمیٹیوں کی جانب سے ‘اینٹی ٹرسٹ انویسٹی گیشنز’ اور ‘سام دشمنی کے خلاف غیر موثر ردعمل’ کے نام پر ہارورڈ یونیورسٹیوں کا جامع جائزہ لینا دراصل ان سر فہرست جامعات کو جنہوں نے ہمیشہ آزادی پر زور دیا ہے ،یہ مجبور کرنے کی کوشش ہے کہ وہ ‘ سیاسی ایجنڈے سے ہم آہنگ ہوں’۔

امریکی ریاست میساچوسٹس کی گورنر مورا ہیلی کا کہنا ہے کہ حکومت کی پالیسی طلبا ء کو سزا دے رہی ہے اور معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کاماننا ہے کہ ٹرمپ کے اس اقدام سے اسٹارٹ اپس کے ترقیاتی چینل میں خلل پڑ سکتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 20 امریکی یونیکارن کمپنیوں کے بانی یا شریک بانی ہارورڈ کے سابق بین الاقوامی طلبا ء ہیں ۔ نیشنل ایسوسی ایشن آف فارن اسٹوڈنٹ ایڈوائزرز نے متنبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی اسکالرز کو ملک سے نکالنے سے امریکا کی معاشی طاقت اور بین الاقوامی مسابقت کمزور ہو جائے گی اور یہ حکومت کے "امریکہ کو عظیم بنانے” کے بیان کردہ مقصد کے منافی ہے۔

یہ طوفان سیاسی حساب کتاب سے بھرا ہوا ہے، جو امریکی معاشرے میں مزید تقسیم اور نظریاتی میدان میں دائیں اور بائیں بازو کے درمیان کشمکش کی شدت میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے پہلے ہارورڈ یونیورسٹی کی 2.6 بلین ڈالر کی فنڈنگ کو "اینٹی سیمیٹ تحقیقات” کے بہانے منجمد کیا، پھر "سفید فاموں کے خلاف امتیازی سلوک” کی بنیاد پر متنوع داخلہ پالیسی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور آخر میں "کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے ساتھ ملی بھگت” کے شبہ میں چینی اداروں کے ساتھ تعاون کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ تین مراحل پر مبنی الزام تراشی امریکہ میں میک کارتھی دور کے پولیٹکل پلے بک کی تکرار کی طرح ہے جہاں ہمیشہ کی طرح ، چین کو ایک بار پھر بہانہ بنایا جا رہا ہے۔

19 مئی کو امریکی ایوان نمائندگان کی ‘سلیکٹ کمیٹی آن چائنا’ نے ہارورڈ یونیورسٹی کو لکھے گئے ایک خط میں جان بوجھ کر ہارورڈ اور چینی اداروں کے درمیان معمول کے تعلیمی تبادلوں کو ‘ٹیکنالوجی کی منتقلی’ کے طور پر پیش کیا۔ چینی وزارت خارجہ نے اس کی سختی سے تردید کی اور مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ عالمی سطح پر تسلیم شدہ تحقیقی تعاون کو بدنام کرنے کا یہ عمل صرف سیاسی جماعتوں کے درمیان کشمکش کی منطقی توسیع ہے – آخر کار ، ہارورڈ ، ڈیموکریٹک اشرافیہ کا گہوارہ اور "تنوع ، مساوات اور جامعیت” کی اقدار کا نمائندہ ہونے کے ناطے ، ہمیشہ قدامت پسندوں کے حق میں کانٹا رہا ہے۔

امریکی حکومت کی جانب سے امریکہ بھر میں یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کی "صفائی” کے خوفناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ برطانوی جریدے نیچر میں مارچ میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق سروے میں شامل 1600 سے زائد امریکی محققین میں سے تقریباً 75 فیصد نے کہا کہ وہ امریکہ چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔ اگرچہ امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے حکومت کی پابندی کو معطل کرنے کا عارضی حکم امتناع جاری کیا ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سائنسی تحقیق کی فنڈنگ منجمد کرنے، تعلیمی تحقیق پر سنسرشپ اور کالجوں اور جامعات کو فریقین میں سے ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کرنے سے کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ جیسا کہ نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ اقدام امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے ماحول کو تباہ کرنے کی اس کی کوششوں کو بے نقاب کرتا ہے، جس سے دنیا بھر سے بہترین ٹیلنٹ کو راغب کرنے کی اعلیٰ ترین جامعات کی صلاحیت کو براہ راست نقصان پہنچتا ہے۔

بوسٹن کے دریائے چارلس کے کنارے، لال اینٹوں سے بنی عمارتوں نے البرٹ آئنسٹائن کو لیکچر دیتے دیکھا تھا اور خود امریکہ کا عروج اس کے ماضی میں کھلے پن اور جامعیت سے قریبی تعلق رکھتا ہے ۔ آج کا امریکہ دنیا بھر میں محصولات عائد کرنے کی دھمکی دے رہا ہے، امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کر رہا ہے اور بین الاقوامی ماہرین تعلیم کو بے دخل کر رہا ہے۔ یہ سب کچھ امریکہ کو خود ساختہ قید کے بند دروازے کی طرف دھکیل رہا ہے۔ بندش اور قدامت پسندی بالآخر زوال کا باعث بنے گی۔ جب سیاسی کشمکش پارٹی کے ذاتی مفادات کے لئے تعلیم کے قانون کو مسخ کرتی ہے تو یہ نہ صرف جامعہ کی بنیاد بلکہ ملک کے مستقبل کو بھی ہلا دے گی ۔ تاریخ نے بار ہا ثابت کیا ہے کہ دیواریں تعمیر کرنے والے عظمت قائم نہیں کر سکتے اور دروازے کھولنے والے ہی مستقبل کے حقدار ہوتے ہیں ۔

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Tags: بین الاقوامی ماہرینسکیورٹی ڈپارٹمنٹصلاحیت
Previous Post

چین کی ای کامرس کی مستحکم ترقی کا رجحان برقرار

Next Post

چینی وزیر اعظم کی انڈونیشیا کے صدر سے ملاقات، کثیرالجہتی امور پر بات چیت

Muhammad Siddique

Muhammad Siddique

Next Post
لی چھیانگ

چینی وزیر اعظم کی انڈونیشیا کے صدر سے ملاقات، کثیرالجہتی امور پر بات چیت

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5878

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

570
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

464
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

279

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading