• Qalam Club English
  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • ہمارے بارے میں
پیر, 2 مارچ, 2026
Qalam Club
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ
No Result
View All Result
Qalam Club
No Result
View All Result
Home کاروبار
مصنوعی زیورات

خواتین میں مصنوعی زیورات خریدنے کا رجحان بڑھ گیا

News Editor by News Editor
اپریل 8, 2023
in کاروبار
0 0
0

کراچی(کامرس ڈیسک)خواتین اور بچیوں کی جانب سے عید الفطرکے لیے تیاریاں عروج پر پہنچ گئیں جب کہ کپڑوں کی تیاری کے بعد خواتین نے میچنگ کے زیورات کی تلاش کواپنا مشن بنالیا۔

عیدکے قریب آتے ہی مصنوعی زیورات کی چمک دھمک خواتین کی توجہ کا مرکز بن گئی،خواتین میں مصنوعی زیورات خریدنے کا رحجان بڑھ گیا۔مہنگائی کے باوجود خواتین عید پر سولہ سنگھار کا شوق پورا کرنے کے لیے بازاروں میں لگائے گئے عارضی اسٹالزسے زیورات خرید رہی ہیں، دکانداروں کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت اس سال 20-30 فیصد مہنگائی ہوئی ہے۔

حیدری مارکیٹ، طارق روڈ، بہادر آباد، جامع مارکیٹ، لیاقت آباد، پی آئی بی، صدر، بوری بازار، بولٹن مارکیٹ، گلستان جوہر، شہید ملت روڈ میٹرومال، گلف سینٹر، کریم آباد، ڈالمین مال، ہائپر اسٹار سمیت شہر کے دیگر علاقے مصنوعی زیورات کے بہترین مراکز ہیں۔ماضی میں ہاتھوں سے نگینے لگانے کا رجحان بہت زیادہ تھا جبکہ اب بولٹن اور جامع بازار میں ایسی چند دکانیں ہی رہ گئیں ہیں جہاں کاریگر اپنے ہاتھوں سے نگینے لگاتے ہیں۔

خواتین نے کہا کہ سونے کے زیورات کے ڈیزائن تبدیل کروانا ایک مشکل مرحلہ ہے،مصنوعی زیورات سے یہ فائدہ ہے کہ ہم ختلف تقریبات میںاپنے کپڑوں کی مناسبت سے زیورات پہن سکتے ہیں،آج کل کے دور میں90 فیصد سے زیادہ خواتین عید ،شادی دعوت سمیت دیگر تقریبات میں مصنوعی زیورات پہنتی ہیں۔اس سال مصنوعی زیورات میں صرف چند ہی ورائٹی نظرآرہی ہے،امپورٹ اورایکسپورٹ متاثر ہونے کے سبب بازاروں میں نئے ڈیزائنز کے زیورات ملنا دشوار ہوگئے ہیں،

گزشتہ سال چین اور انڈیا سے منوائے گئے جھمکے خواتین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے،مگر اس سال صورتحال منفرد ہے،بازاروںمیں انڈیا اور چین سے منوائے گئے جھمکے غائب ہوچکے ہیں۔لڑکیوں کی جانب سے کپڑوں کے ڈیزائن اور رنگوں کی مناسبت سے مصنوعی زیورات خریدے جارہے ہیں،مہنگائی اور قوت خریدکم ہونے کے سبب خواتین کی کوشش ہے کہ وہ 2 ہزار روپے تک کی میچنگ جوئیلری خریدیں،ان مصنوعی زیورات میں ہلکہ ہار ،کڑے ،انگوٹھی اور بندے شامل ہیں جبکہ بولٹن مارکیٹ مصنوعی زیورات کی بڑی مارکیٹ میں شمارہوتی ہے۔

بولٹن مارکیٹ کے مصنوعی زیورات کے صدر انوار ماموں نے کہا کہ ویسے تو بہت سے آج کل بہت سے اقسام کی زیورات چل رہے ہیں مگر شہر میں زیادہ تر منجوس، زرقون ، پترا اور فرشی کے زیورات خریدے جارہے ہیں، خواتین کی جانب سے زیادہ تر میچنگ کے زیورات خریدے جارہے ہیں جس کے باعث زرقون کے زیورات بہت پسند کیے جارہے ہیں۔

ہماری دکان پر 200 روپے سے لے کر کئی ہراز تک کے زیورات موجود ہیں،سب سے مہنگے زرقون کے زیورات ہیں کیوں کہ کے زرقون امپورٹ کیا جاتا ہے،زرقون کے زیورات کے خاص بات یہ ہے کہ اس کا نگینہ کبھی نہیں نکلتا ہے،گندا ہونے کی صورت میں زرقون کے زیورات کو پالش کیا جاتا ہے جس کے بعد زیورات دوبارہ چمکدار ہوجاتے ہیں۔

دکانداروں کے مطابق خواتین کی پسند سوشل میڈیا پر موجود رجحانات کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہے، بڑھتی ہوئی مہنگائی نے خواتین کو ہاتھ روک کر خریداری کرنے پر مجبور کردیا ہے،پرانے ڈیزائنز مناسب قیمتوں میں دستیاب ہیں جبکہ نئے کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں،اس کے علاوہ ہلکے ٹاپس،بالیاں بھی فروخت ہورہی ہیں۔ملازمت پیشہ خواتین غیرملکی مصنوعی زیورات کی خریداری کو ترجیح دیتی ہیں جبکہ دفاتر میں ملازمت پیشہ خاتون عالیہ نےبتایا کہ عید کے موقع پر بھاری اور زیادہ مہنگے مصنوعی زیورات خریدنے کا فائدہ نہیں کیونکہ عید کے بعد عام معمول میں ان زیورات کا استعمال نہیں کیا جاسکتا جبکہ ہلکے اورنفیس مثلا لاکٹ اور انگوٹھیاں عام دنوں میں بھی پہنی جاسکتی ہیں۔

دکانداروں نے کہا کہ مہنگائی کے سبب متوسط اور غریب طبقے کی خواتین 1500 2000 روپے تک کے ہلکے زیورات خریدنا پسند کرتی ہیں،یہ مصنوعی زیورات کم قیمت اور خوبصورت ڈیزائن کے حامل ہوتے ہیں۔کورونا وبا کے بعد اور مہنگائی میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے درجنوں خواتین نے گھر بیٹھے زیورات کی خریدو فروخت کا کام شروع کردیا ہے،ابتدا میں انھوں نے اس کاروبار کو مقامی سطح تک محدود کیا ہوا تھا جبکہ تجربے میں اضافہ ہونے کی وجہ سے اب انھوں نے اپنی ویب سائٹس تک بنالیں ہیں جہاں وہ نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی زیورات کی خرید و فروخت کررہے ہیں۔

ایسی خواتین خود مختار ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے جیسی کئی خواتین کو ملازمت کے مواقع فراہم کررہی ہیں،مڈل کلاس خاندان سے وابستہ خواتین بھی عیدکی خریداری کے دوران مہنگائی سے پریشان ہیں،طارق روڈ پر مصنوعی زیورات کی خریداری میں مصروف خاتون ثنا نے کہا کہ جدید ڈیزائنز اور معیاری مصنوعی زیورات بھی اب روزبروزمہنگے ہوتے جارہے ہیں،ایسے میں مختلف برنڈزکے مصنوعی زیورات خریدنے کا تصور بھی ممکن نہیں ہے۔

عید پر دیدہ زیب اور دلکش نظر آنے کے لیے خواتین گھنٹوں بازاروں میں گھوم کر گزار رہیں ہیں،اس مہنگائی کے دور میں لڑکیاں مصنوعی زیورات کے ذریعے سولہ سنگھار کا شوق پورا کرسکتی ہیں،اکثر خواتین کا زیادہ وقت زیورات کی خریداری میں لگ جاتا ہے۔کیونکہ میچنگ کے زیورات خریدنا خواتین کے لیے حساس واہم مسئلہ ہوتاہے اگرایک دکان پرموجود زیورات کا ڈیزائن بہت دلکش ہو مگر وہ کپڑوں سے میچ نہیں کررہاہوتو خواتین مجبور ہوکر دوسری دکانوں کا رخ کرلیتی ہیں،کیوںکہ عید کے موقع پر خواتین کا بناو سنگھار پھیکا پڑ جائے ،ایسا ممکن ہی نہیں۔

موسم گرما میں گھریلو اور ملازمت پیشہ خواتین بھاری زیورات کے بجائے ہلکے ٹاپس،لاکٹ ، بریسلیٹ اور انگوٹھیوں کا انتخاب کررہی ہیں،کیوں کہ خواتین عید کے روز بھی خاندان بھر کے لیے دعوتوں کا اہتمام کرنے میں مصروف رہتی ہیں اس لیے اکثر بھاری زیورات پہنا مشکل ہوجاتا ہے،جبکہ آج کل لڑکیاں سوشل میڈیا پر زیورات کے ڈیزائن دیکھتی ہیں جن میں زیادہ تر شائستہ اور نفیس زیورات کے تصاویر موجود ہوتی ہیں شہر کے اہم بازاروں اور مارکیٹوں میں مصنوعی زیورات کے عارضی اسٹالز لگ گئے ہیں جہاں بے شمار لوگوں کو روزگار حاصل ہوگیا ہے، ان اسٹالز پر بے انتہا رش ہے،دکانوں کی نسبت عازضی اسٹالز پر قیمتیں مناسب ہیں،دکانداروں کا کہنا ہے کہ بازاروں میں موجود مصنوعی زیورات کی رنگ و چمک خواتین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

خواتین کی کوشش ہے کہ اچھے ڈیزائن کی حامل کم قیمت مصنوعی زیورات خریدے جائیں، یہ ہلکے زیورات 1500-2500 روپے کے درمیان فروخت ہورہے ہیں،صنف نازک کے بناو سنگھار کا تصور زیورات کے بغیر ممکن نہیں،اس لیے ہر عمر کی خواتین کی عید کے موقع پر دیدہ زیب نظر آنے کے لیے رنگ برنگے مصنوعی زیورات خریدرہیں ہیں۔
٭٭٭٭٭

Share this:

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)

Related

Tags: بچیوںعید الفطرمصنوعی زیورات
Previous Post

نیند میں مسائل فالج کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے، تحقیق

Next Post

روشن ڈیجیٹل اکائونٹ میں چھ ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کا سنگ میل عبور

News Editor

News Editor

Next Post
ترسیلات زر

روشن ڈیجیٹل اکائونٹ میں چھ ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کا سنگ میل عبور

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ خبریں

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025
  • Trending
  • Comments
  • Latest
ایف آئی اے

ایف آئی اے میں بھرتیوں کا اعلان

جون 1, 2024

سی ٹی ڈی پنجاب میں نوکری حاصل کریں،آخری تاریخ 18 اپریل

اپریل 17, 2020

پنجاب پولیس میں 318 انسپکٹر لیگل کی سیٹوں کا اعلان کردیا گیا

اپریل 19, 2020

حسا س ادارے کی کاروائی، اسلام آباد میں متنازعہ بینرزلگانے والے ملزمان گرفتار

اگست 7, 2019
کراچی

کراچی، میٹرک کے سالانہ عملی امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا

5879

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

570
الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کا اٹارنی جنرل، آئینی ماہرین سے مزید مشاورت کا فیصلہ

464
مریم نواز

مریم نواز نے جلد بون میرو ٹرانسپلانٹ کارڈ کا اجرا کرنے کا اعلان کردیا

279

ارنب گوسوامی نے کشمیری رہنماؤں اور مسلمان برادری کے خلاف متنازع بیانات دئیے، صحافتی معیار پر سوالیہ نشان

نومبر 12, 2025

سینیٹرز بھی ہیکرز کے نرغے میں! چار ارکانِ ایوان بالا سے لاکھوں روپے کا آن لائن فراڈ

نومبر 6, 2025

پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے نیا قانون — بھاری جرمانے اور قید کی سخت سزائیں تجویز

نومبر 5, 2025

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت میں 3,500 روپے کی کمی

نومبر 4, 2025
Qalam Club

دورجدید میں سوشل میڈیاایک بااعتباراورقابل بھروسہ پلیٹ فارم کے طورپراپنی مستحکم جگہ بنا چکا ہے۔ مگر افسوس کہ چند افراد ذاتی مقاصد کےلیےجھوٹی، بےبنیاد یاچوری شدہ خبریں پوسٹ کرکےاس کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ایسےعناصر کےخلاف جہاد کےطورپر" قلم کلب" کا آغازکیاجارہاہے۔ یہ ادارہ باصلاحیت اورتجربہ کارصحافیوں کاواحد پلیٹ فارم ہےجہاں مصدقہ خبریں، بے لاگ تبصرے اوربامعنی مضامین انتہائی نیک نیتی کےساتھ شائع کیے جاتے ہیں۔ ہمارے دروازےان تمام غیرجانبداردوستوں کےلیےکھلےہیں جوحقائق کومنظرعام پرلا کرمعاشرے میں سدھارلانا چاہتے ہیں۔

نوٹ: لکھاریوں کےذاتی خیالات سے"قلم کلب"کامتفق ہوناضروری نہیں ہے۔

  • ہمارے ساتھ شامل ہوں
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • رازداری کی پالیسی
  • شرائط و ضوابط
  • ضابطہ اخلاق

QALAM CLUB © 2019 - Reproduction of the website's content without express written permission from "Qalam Club" is strictly prohibited

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

No Result
View All Result
  • صفحۂ اول
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل
    • چائنہ کی خبریں
  • ہماری خبر
  • کرائم اینڈ کورٹس
  • تقرروتبادلے
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت و تعلیم
  • کھیل
  • تبصرہ / تجزیہ
  • تاریخ فلسفہ

قلم کلب © 2019 - تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں.

Login to your account below

Forgotten Password?

Fill the forms bellow to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Discover more from Qalam Club

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue Reading