بیروت،غزہ(انٹرنیشنل نیوز ) حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پر مزید حملوں کا دعوی کر دیا۔حزب اللہ نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ جنوبی لبنان کے شہر طیری میں اسرائیلی فوجیوں پر دو حملے کئے گئے، راکٹوں اور توپ خانے کے گولوں سے حملہ کیا گیا۔حزب اللہ نے کہا کہ دونوں کارروائیاں نبطیہ گورنریٹ میں کی گئیں، عودیسہ میں بھی اسرائیلی فوج کے ایک نئے قائم کردہ توپ خانے کے مرکز کو ڈرون سے نشانہ بنایا۔
دوسری جانب صحافیوں کے تحفظ کی تنظیم سی پی جے نے لبنان میں رائٹرز کے صحافی عصام عبداللہ کی ہلاکت کو غلطی قرار دینے کا اسرائیلی موقف مسترد کر دیا۔فرانس میں اسرائیل کے سفیر نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج نے صحافیوں کو غلطی سے دہشت گرد سمجھ لیا تھا، سی پی جے کی مشرق وسطی و شمالی افریقہ کی ڈائریکٹر سارہ قداح نے کہا کہ یہ وضاحت کافی نہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ واضح طور پر صحافیوں کے طور پر شناخت ہونے والے افراد کو بار بار کیوں نشانہ بنایا گیا؟ صحافی کافی دیر تک ایک ہی مقام پر موجود تھے اور کھلے عام اپنا کام کر رہے تھے۔سی پی جے نے اسرائیل سے اپنے دعوے کے ثبوت اور تحقیقات کی مکمل رپورٹ جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر حماس نے مغربی کنارے میں سات ماہ کے فلسطینی بچے کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔حماس نے مذمتی بیان میں اسے اسرائیلی مظالم کی ایک اور مثال قرار دیا ہے، اپنے جاری بیان میں کہا کہ معصوم بچے کا قتل فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی سفاکانہ پالیسیوں اور قابض افواج و آبادکاروں کے مجرمانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔یہ واقعہ فلسطینی خون کی بے قدری اور فلسطینی عوام کی جانوں کے حوالے سے اسرائیلی حکام کے رویے کو بے نقاب کرتا ہے۔حماس نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر فوری دبا ڈالیں تاکہ فلسطینیوں کے خلاف جاری کارروائیوں اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔